
ایکنانیوز کی رپورٹ کے مطابق بتایا گیا ہے کہ یہ سیمینار علما، مبلغین اور جامعات کے اساتذہ کی شرکت سے منعقد ہوا، جس میں قرآنِ کریم اور دینی شعائر کے خلاف بڑھتی ہوئی یلغار کے تناظر میں امتِ اسلامی کو درپیش فکری اور اعتقادی چیلنجز کا جائزہ لیا گیا۔
اس موقع پر علامہ شمس الدین شرف الدین، مفتیٔ یمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ امتِ اسلام کو اللہ کی طرف دعوت کو مضبوط بنانا اور دلوں میں ایمان کو راسخ کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قرآنِ کریم اور رسول اکرم ﷺ پر ہونے والے مسلسل حملے اسی تاریخی سلسلے کی کڑی ہیں جو تحریف اور دشمنی پر مبنی ہے، جس کا سامنا انبیاء اور اللہ کے رسولوں کو ہمیشہ رہا ہے۔
مفتیٔ یمن نے اپنے خطاب کے اختتام پر دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے صفوں میں اتحاد، تعصب کے خاتمے اور فرقہ واریت سے اجتناب پر زور دیا۔
بعد ازاں انصار اللہ کی سیاسی کونسل کے رکن حزام الاسد نے کہا کہ غزہ میں جاری حالات صہیونی ـ مغربی منصوبے کی اصل حقیقت کو آشکار کرتے ہیں، جو امتِ مسلمہ اور اس کے مقدسات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آزادیِ اظہار کے حوالے سے مغرب کے نعرے، مسئلۂ فلسطین اور قرآنِ کریم کی توہین پر دوہرے معیارات کے باعث بے معنی ہو چکے ہیں۔
تقریب کے ایک اور مقرر عارف الہاجری نے قرآنِ کریم کے دفاع میں علما اور واعظین کی ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے اسلام کی توہین کرنے والے ممالک کی مصنوعات کے معاشی بائیکاٹ کا مطالبہ کیا۔
یہ سیمینار دینی خطابت میں اتحاد کی اہمیت، سماجی آگاہی میں علما کے کردار کو فعال بنانے اور اس نرم جنگ کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے اختتام پذیر ہوا، جو امتِ اسلام کی شناخت اور مسلمانوں کے مقدسات کو نشانہ بنا رہی ہے۔/
4327160