یہود اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی سازش

IQNA

صہونیزم سے جنگ کا تجزیہ قرآن کے رو سے/13

یہود اور مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی سازش

11:32 - March 24, 2026
خبر کا کوڈ: 3520092
جنگِ رمضان کے دوران ایک طرف اسلامی ایران ہے اور دوسری طرف امریکہ اور صہیونی رژیم اور ان کے اڈے، جو مغربی ایشیا کے مسلمان عرب ممالک میں قائم ہیں۔ اس تقسیم کے بارے میں قرآنِ کریم کیا کہتا ہے؟

ایکنا نیوز- جب ایک یہودی نے مدینہ کے مسلمانوں، خصوصاً دو قبائل (اوس اور خزرج) کے درمیان اتحاد دیکھا، تو اس نے منصوبہ بندی کے تحت کچھ لوگوں کو مامور کیا کہ وہ پرانی دشمنیوں کو یاد دلا کر انہیں بھڑکائیں۔ رسولِ خدا ﷺ نے انہیں سکون کی دعوت دی، خبردار کیا اور دشمن کی سازش سے آگاہ کیا۔ اس سلسلے میں سورۂ آلِ عمران کی آیات 98 تا 100 نازل ہوئیں۔

قرآنِ کریم فرماتا ہے: اے ایمان والو! اگر تم اہلِ کتاب کے ایک گروہ کی اطاعت کرو گے تو وہ تمہیں ایمان کے بعد پھر کفر کی طرف لوٹا دیں گے۔ (آل عمران: 100) یہاں "گروہ" سے مراد یہودیوں کا ایک طبقہ ہے۔ ایمان کے بعد کفر کا مطلب یہ ہے کہ کس طرح مسلمانوں کو بھڑکا کر انہیں گمراہ کیا جا سکتا ہے۔ ممکن ہے کہ کفر سے مراد جاہلیت کے زمانے کی دشمنیاں ہوں، کیونکہ ایمان محبت اور اخوت کا سرچشمہ ہے جبکہ کفر تفرقہ اور دشمنی کا باعث بنتا ہے۔

درحقیقت یہ آیت مسلمانوں کو خبردار کرتی ہے کہ اگر وہ دشمن کی زہریلی باتوں سے متاثر ہو جائیں اور ان کے وسوسوں پر عمل کریں، تو زیادہ دیر نہیں گزرے گی کہ ان کا ایمان کمزور ہو جائے گا اور وہ کفر کی طرف لوٹ جائیں گے۔ دشمن پہلے ان کے درمیان دشمنی کی آگ بھڑکاتا ہے، انہیں آپس میں لڑاتا ہے، اور پھر مسلسل وسوسے ڈال کر انہیں اسلام سے دور کر دیتا ہے۔

اگلی آیت میں فرمایا گیا: «وَكَيْفَ تَكْفُرُونَ وَ أَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ آيَاتُ اللَّهِ وَ فِيكُمْ رَسُولُهُ»؛ یعنی جب رسول ﷺ تمہیں آیات سنائیں تو غور سے سنو، ان میں تدبر کرو، اور اگر سمجھ نہ آئے تو رسول ﷺ کی طرف رجوع کرو۔

آج کے زمانے میں اس آیت پر عمل کا مطلب یہ ہے کہ یہود کی طرف سے پھیلائے گئے شبہات کو دور کرنے کے لیے اللہ کی آیات اور سنتِ رسول ﷺ سے رجوع کیا جائے۔ لہٰذا دنیا بھر کے مسلمانوں کو غور کرنا چاہیے کہ ایران اور امریکی–صہیونی محاذ کے درمیان جاری اس کشمکش میں وہ کس جانب کھڑے ہیں۔

نظرات بینندگان
captcha