
ایکنا نیوز- قرآن کریم سورۂ مجادلہ کی آیات 14 سے 22 میں ایک گروہ منافقین کا ذکر کرتا ہے جنہوں نے یہودیوں سے دوستی قائم کی: «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مَا هُمْ مِنكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ» کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہوں نے ایسے لوگوں سے دوستی کرلی جن پر اللہ کا غضب ہوا؟ نہ وہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے۔ (المجادلہ: 14)۔ یہ لوگ نہ مسلمانوں میں سے ہیں اور نہ یہودیوں میں سے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ یہودیوں کے ساتھ جا ملے ہیں:
«وَ مَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ» (مائده: 51).
اسی انحراف کی وجہ سے قرآنِ کریم ان کی مذمت کرتا ہے اور انہیں عذاب اور بدبختی کی وعید سناتا ہے (المجادلہ: 15)۔
پھر فرماتا ہے کہ یہ منافقین شیطان کے گروہ میں سے ہیں اور نقصان اٹھانے والے ہیں۔ اس کی وجہ یہ بیان کرتا ہے کہ وہ اپنی مخالفت اور ضد کی بنا پر اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرتے ہیں، اسی لیے وہ اللہ کی مخلوق میں سب سے زیادہ ذلیل لوگوں میں شمار ہوتے ہیں (المجادلہ: 19-20)۔
آیت 22 میں فرمایا: «لا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللّهِ وَ اَلْيَوْمِ اَلْآخِرِ يُوادُّونَ مَنْ حَادَّ اَللّهَ وَ رَسُولَهُ» تم ایسے لوگوں کو نہیں پاؤ گے جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہوں کہ وہ ان لوگوں سے محبت کریں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ یہ اندازِ بیان اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ اور آخرت پر سچا ایمان ایسے اوصاف کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتا۔ جو شخص واقعی اللہ، اس کے رسول اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ ہرگز اللہ کے دشمنوں سے دوستی نہیں کر سکتا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان مؤمنین کی تعریف کرتا ہے جو دشمنانِ خدا سے بیزاری اختیار کرتے ہیں اور ان کے لیے خوبصورت وعدے بیان کرتا ہے: «أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» (مجادله: 22).
پہلا وعدہ یہ ہے کہ ان کے دلوں میں گہرا اور پختہ ایمان راسخ کر دیا گیا ہے۔ پھر ان کی تائید اور جنت میں داخلے کی بشارت دی گئی ہے۔ اللہ کی رضا بھی ایک خاص رحمت ہے جو خالص مؤمنین کو حاصل ہوتی ہے۔ یہی لوگ اللہ کا گروہ ہیں اور حقیقت میں کامیاب ہیں: یہی اللہ کا گروہ ہے اور بے شک اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا ہے"؛ جبکہ وہ منافقین خسارے میں ہیں اور شیطان کے گروہ میں شامل ہیں۔