
ایکنا نیوز- «ولایت» قرآنِ کریم کے نہایت اہم اور کثیر الاستعمال الفاظ میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نہ صرف خود ولایت رکھتا ہے بلکہ وہی اصل اور حقیقی ولی ہے: «فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ» (الشوریٰ: 9)۔ درحقیقت ولایت بمعنی سرپرستی صرف اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کے لیے خاص ہے، اور جو اس سے محروم رہتا ہے، اس پر بطور عذاب «طاغوت» کی ولایت مسلط ہو جاتی ہے (البقرہ: 257)۔
قرآنِ کریم ایک اور سطح پر مؤمنین کی باہمی ولایت کو بیان کرتا ہے؛ وہ ایک دوسرے کے بھائی ہیں (الحجرات: 10) اور انہیں اپنی باہمی ولایت کو برقرار رکھنا چاہیے (التوبہ: 71)۔ انسان بیک وقت مؤمن اور غیر مؤمن دونوں کے ساتھ ولایت کا تعلق نہیں رکھ سکتا؛ اسی لیے قرآن نے مؤمن کے لیے ولایت کا راستہ بھی مقرر کیا ہے اور بیزاری کا راستہ بھی۔
قرآنِ کریم تاکید کرتا ہے کہ ہرگز کفار (النساء: 144)، دشمنانِ خدا (الممتحنہ: 1) اور یہود و نصاریٰ سے ولایت اور دوستی کا تعلق قائم نہ کرو: «لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ» (المائدہ: 51)۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ فرمایا کہ اگر تمہارے والدین اور اولاد بھی تمہارے دینی راستے پر نہیں ہیں تو ان سے بھی ولایت کا تعلق قائم نہ کرو (التوبہ: 23)۔ لہٰذا پہلے انسان کو اپنی براءت (بیزاری) کو واضح کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنی وابستگی کو صحیح سمت دے سکے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان ولایتوں کو ترک کرنے کی وجہ کیا ہے؟
قرآنِ کریم سورۂ آل عمران (آیت 28) میں کفار کی ولایت سے منع کرنے کے بعد فرماتا ہے: «وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ» یعنی جو ایسا کرے اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ولایت ابتدائی مرحلے میں محبت اور نصرت (مدد) سے شروع ہوتی ہے، لیکن اعلیٰ مراحل میں جا کر سرپرستی اور تدبیر (حکمرانی و اختیار) تک پہنچ جاتی ہے۔
اسی طرح سورۂ مائدہ (آیت 51) میں فرمایا: «وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ» یعنی تم میں سے جو کوئی انہیں اپنا ولی بنائے گا، وہ انہی میں سے شمار ہوگا۔
لہٰذا اللہ تعالیٰ انسان کو اس بڑے خطرے سے بچانے کے لیے ابتدا ہی میں محبت اور قربت والی ولایت سے منع کرتا ہے، تاکہ بات آگے بڑھ کر سرپرستی اور حکمرانی کی ولایت تک نہ پہنچ جائے۔