
ایکنا نیوز- مسلمون حول العالم نیوز کے مطابق یونیسکو کا یہ اقدام ایتھوپیا میں اسلامی ورثے کی گہری تاریخی اور انسانی اہمیت کی عکاسی کرتا ہے۔ مسجد نجاشی کو 14 جنوری 2026 کو ایتھوپیا کے ادارۂ تحفظِ ورثہ کی جانب سے دی گئی باضابطہ درخواست کے بعد، مستقل عالمی ورثہ فہرست میں شمولیت کے ابتدائی مرحلے کے طور پر رجسٹر کیا گیا۔
یہ مسجد اپنی شناخت سے بڑھ کر ایک بڑی تاریخی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ یہ ایتھوپیا میں اسلام کی ابتدائی موجودگی کو اجاگر کرتی ہے اور اسلام اور افریقی براعظم کے تعلق کی ایک اہم تاریخی جہت کو روشن کرتی ہے۔
مسجد نجاشی کا تعلق 615 عیسوی کی پہلی ہجرت سے ہے، جب نبی اکرم ﷺ کے صحابہ نے عیسائی مملکت اکسوم میں پناہ لی، جہاں انہیں بادشاہ نجاشی کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ یہ تاریخی واقعہ مذہبی رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کی ایک نمایاں مثال پیش کرتا ہے۔
یہ مقام صرف ایک مسجد تک محدود نہیں بلکہ یہاں متعدد صحابۂ کرام کی قبریں بھی موجود ہیں، اور اس کے ساتھ ایک ایسا ثقافتی ماحول جڑا ہوا ہے جو 1400 سال سے زائد عرصے سے اس خطے میں اسلام کی مسلسل موجودگی کی عکاسی کرتا ہے۔ اسی بنا پر اسے افریقہ میں اسلام کے ابتدائی پھیلاؤ کے نمایاں زندہ شواہد میں شمار کیا جاتا ہے۔
یہ مقام مادی اور غیر مادی ورثے کا ایک مربوط نمونہ پیش کرتا ہے، جہاں تاریخی عمارتیں اور جاری مذہبی سرگرمیاں ایک دوسرے میں مدغم ہو کر ایمان اور معاشرے کے گہرے تعلق کو ظاہر کرتی ہیں۔
مسجد نجاشی ایک زندہ مقام کے طور پر جانی جاتی ہے جو رحمت، رواداری اور بین الثقافتی مکالمے جیسی عالمی اقدار کی نمائندگی کرتی ہے، اور یہی خصوصیات اسے عالمی ورثہ فہرست میں شامل کیے جانے کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہیں۔/