انڈونیشیاء میں روهینگیا مسلمانوں کی نابسامانی

IQNA

انڈونیشیاء میں روهینگیا مسلمانوں کی نابسامانی

7:26 - May 04, 2026
خبر کا کوڈ: 3520176
ایکنا: انڈونیشیاء میں روہنگیا مسلمان، حکومتی اور مقامی سطح پر پناہ گاہ فراہم کیے جانے کے باوجود سخت زندگی گزار رہے ہیں اور انسانی امداد میں کمی کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

ایکنا نیوز- خبررساں ادارے "مسلمون حول العالم" کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انسانی بحران کے بڑھتے ہوئے چیلنجز کے درمیان، انڈونیشیا میں مقیم روہنگیا مسلمان، اگرچہ حکومت اور مقامی برادریوں کی جانب سے پناہ دی گئی ہے، لیکن حالیہ مہینوں میں انسانی امداد میں کمی کی وجہ سے مزید پیچیدہ حالات سے دوچار ہو گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، انڈونیشیا میں تقریباً 2 ہزار روہنگیا مسلمان موجود ہیں، جن میں سے 1300 سے زائد "پیکانبارو" شہر (صوبہ ریاو) میں رہتے ہیں، جبکہ باقی آچے اور میڈان جیسے شمالی و مغربی علاقوں میں مقیم ہیں۔

2026 سے پناہ گزینوں کو بنیادی ضروریات کی فراہمی میں بڑھتی ہوئی مشکلات کا سامنا ہے، جن میں خوراک، رہائش اور صحت کی سہولیات شامل ہیں۔ اس صورتحال نے انہیں ایک سنگین انسانی بحران میں مبتلا کر دیا ہے جو روزانہ ان کے استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔

بین الاقوامی تنظیم برائے مہاجرت (IOM) کی مالی امداد میں کمی نے اس بحران کو مزید شدید کر دیا ہے۔ اس وقت اس تنظیم کی مدد صرف کمزور طبقات، جیسے کم عمر بچوں والے خاندان، حاملہ خواتین اور بزرگ افراد تک محدود ہو چکی ہے، جبکہ بہت سے پناہ گزین بغیر کسی مدد کے رہ گئے ہیں۔

یہ صورتحال فوری بین الاقوامی اقدام کی متقاضی ہے تاکہ انسانی امداد کو بڑھایا جا سکے اور اس مسلم برادری کے لیے کم از کم باعزت زندگی کی بنیادی ضروریات فراہم کی جا سکیں۔

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ اگرچہ انڈونیشیا نے ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے برعکس روہنگیا پناہ گزینوں کی قبولیت میں سختی نہیں کی، تاہم ایمنسٹی انٹرنیشنل اور اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سمندر میں بھٹکنے والے روہنگیا پناہ گزینوں کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت دی جائے۔

روہنگیا، جن کی اکثریت مسلمان ہے، کو دنیا کی "سب سے زیادہ مظلوم اقلیت" قرار دیا جاتا ہے۔

آج تقریباً 10 لاکھ روہنگیا، جن میں نصف بچے ہیں، بنگلہ دیش کے گنجان پناہ گزین کیمپوں میں نہایت نامساعد حالات میں زندگی گزار رہے ہیں، جہاں انہیں کام کرنے کی اجازت نہیں، نقل و حرکت محدود ہے اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق انہیں مختلف قسم کی خلاف ورزیوں کا سامنا ہے۔/

 

4350062

نظرات بینندگان
captcha