فلسطین کے مسیحی صہیونی حملوں سے پریشان

IQNA

فلسطین کے مسیحی صہیونی حملوں سے پریشان

8:28 - May 07, 2026
خبر کا کوڈ: 3520189
ایکنا: فلسطینی مسیحیوں نے صہیونی حملوں کے دوبارہ بڑھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایکنا نیوز- خبر رساں ادارے آناتوطولیہ کے مطابق فلسطینی مسیحیوں نے مقبوضہ مغربی کنارے، بشمول القدس، میں صہیونی ریاست کے حملوں میں اضافے پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ یہ صورتحال اس وقت ہے جب فلسطینی مسیحیوں کے خلاف ہراسانی اور جسمانی حملوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے آناتولی سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ یہ حملے شہر میں مسیحیوں کی موجودگی کو محدود کرنے کی ایک وسیع تر کوشش کا حصہ ہیں، جس کے ساتھ نقل و حرکت اور مذہبی مقامات تک رسائی پر بھی پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران مغربی کنارے، خصوصاً القدس میں، مسیحی اور مسلم مذہبی شخصیات اور مقدس مقامات پر اسرائیلی حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

القدس کی کلیساؤں نے متعدد بار اسرائیلی حکام سے ان حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا، لیکن اب تک کوئی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔

ہفتہ کے روز القدس کی گورنریٹ نے ایک ویڈیو جاری کی جس میں دکھایا گیا کہ ایک صہیونی آبادکار نے قدیم شہر میں واقع آرمینیائی چرچ کے دروازے کے سامنے تھوکا۔

یہ آبادکار اسی پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اس نے سیکیورٹی کیمرے کے سامنے، جو اس کی حرکات ریکارڈ کر رہا تھا، نازیبا حرکات بھی کیں۔

یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی وزیر برائے داخلی سلامتی ایتامار بن گویر نے اکتوبر 2023 میں دعویٰ کیا تھا کہ مسیحیوں پر تھوکنا ایک قدیم یہودی رسم ہے اور اسے کوئی مجرمانہ فعل نہیں سمجھا جا سکتا جس پر گرفتاری لازم ہو۔

اس وقت کلیساؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے بن گویر کے اس بیان کو اسرائیلی انتہا پسندوں کے لیے حملے جاری رکھنے کا "گرین سگنل" قرار دیا تھا۔

مقبوضہ شہر القدس میں انتہا پسند آبادکاروں کی جانب سے مسیحی راہبوں اور کلیساؤں کے خلاف اس طرح کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جو بعض شدت پسندانہ مذہبی تعبیرات پر مبنی ہیں اور دیگر مذاہب کی بے حرمتی کا باعث بنتی ہیں۔

 

4350632

نظرات بینندگان
captcha