
ایکنا نیوز کے مطابق، اوسلو میں منعقد ہونے والے اس فورم میں ناروے کی مختلف مذہبی و فکری تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ یہ اجلاس ناروے کی کونسل برائے بین المذاہب تعاون کے تحت منعقد کیا گیا، جس کا مقصد مکالمے کو فروغ دینا، تجربات کا تبادلہ کرنا اور متنوع معاشرے کو درپیش مشترکہ سماجی مسائل پر گفتگو کرنا تھا۔
یہ فورم سال میں دو مرتبہ منعقد کیا جاتا ہے اور مذہبی و فکری رہنماؤں کے درمیان براہِ راست مکالمے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرتا ہے، جہاں شرکاء اہم سماجی موضوعات پر اپنے خیالات اور تجربات ایک دوسرے کے ساتھ بانٹتے ہیں۔
فاروق تیرزیچ، جو اسلامی ڈائیلاگ نیٹ ورک کے سربراہ اور ناروے میں بوسنیائی اسلامی سوسائٹی کے امام جماعت ہیں، نے اس اجلاس میں مسلم کمیونٹی کی نمائندگی کی۔ انہوں نے ناروے میں مسلمانوں کے نقطۂ نظر کو پیش کرتے ہوئے روزمرہ زندگی کے مسائل اور وسیع تر معاشرے کے ساتھ ان کے تعلقات پر روشنی ڈالی۔
اس اجلاس میں عیسائی، یہودی، بدھ مت اور ہندو اداروں کے اعلیٰ سطحی نمائندوں کے علاوہ فکری اور انسان دوست تنظیموں کے افراد نے بھی شرکت کی، جس سے ناروے کے متنوع معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان تبادلۂ خیال اور تجربات کے اشتراک کا ماحول پیدا ہوا۔
یہ پروگرام خاص طور پر اقلیتوں کی حمایت پر مرکوز تھا۔ شرکاء نے اپنی برادریوں کو درپیش چیلنجز پر گفتگو کی اور اس بات کا جائزہ لیا کہ سرکاری اور سماجی ادارے کس طرح احساسِ تحفظ اور تعلق کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔
گفتگو صرف عمومی نکات تک محدود نہیں رہی بلکہ روزمرہ کے عملی مسائل اور چیلنجز کو بھی زیرِ بحث لایا گیا، جس سے مختلف مذہبی و فکری گروہوں کے درمیان باہمی اعتماد اور براہِ راست افہام و تفہیم کی اہمیت واضح ہوئی۔/
4351148