
ایکنا نیوز کے مطابق، یہ تاریخی نسخہ متحف التراث الثقافي الإسلامي ومركز تعليم القرآن میں رکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قرآنِ مجید کی عمر ایک ہزار سال سے زائد ہے۔
تقریباً 50 کلوگرام وزنی یہ نسخہ عباسی دور میں تحریر کیا گیا تھا۔ اسے 346 صفحات پر لکھا گیا ہے جو جانوروں کی کھال سے تیار کیے گئے تھے، جبکہ کتابت کے لیے قدرتی سیاہی استعمال کی گئی۔ یہ نسخہ خطے میں محفوظ نادر اور قیمتی اسلامی آثار میں شمار ہوتا ہے۔
میوزیم کے ذمہ دار نیک الہام نیک یوسوپ نے کہا کہ یہ میوزیم کی قدیم ترین تاریخی یادگار ہے، جسے غیر معمولی مہارت کے ساتھ تیار کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ قرآن لکھنے کے لیے سینکڑوں جانوروں کی کھالوں کو خاص طریقے سے تیار کر کے مضبوط صفحات بنائے گئے تھے، جبکہ تمام خام مواد یمن کے علاقے حضرموت سے لایا گیا تھا۔
قدرتی مواد کے استعمال کے علاوہ، یہ نسخہ ابتدائی مسلم معاشروں کی تخلیقی صلاحیت کی بھی عکاسی کرتا ہے، جنہوں نے اپنے ماحول میں موجود عناصر کو استعمال کرتے ہوئے اسے مکمل طور پر ہاتھ سے خطِ کوفی میں تحریر کیا۔
چونکہ یہ مخطوطہ مکمل طور پر قدرتی مواد سے تیار کیا گیا ہے، اس لیے اس کی حفاظت کے لیے انتہائی محتاط اور جدید کیمیائی مادوں سے پاک طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔ اس کی صفائی اور مرمت ہر چھ ماہ بعد کی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ نسخہ یمن سے شیخ شیخ جمادیل کبری کے دور میں جزائرِ مالے پہنچا تھا۔
ان کے مطابق، یہ تاریخی قرآن تقریباً 500 سال تک انڈونیشیا میں محفوظ رہا، جس کے بعد تقریباً پانچ سال قبل کورونا وبا کے دوران اسے ناراتیوات منتقل کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی تہذیب کے اس قیمتی ورثے کی حفاظت کے لیے سخت حفاظتی اقدامات نافذ کیے گئے ہیں، اور زائرین کو اس نادر و نفیس نسخے کو ہاتھ لگانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔/
4351172