جدائی کا درد اور یادگار عبا کی نشانی+ ویڈیو

IQNA

رهبر شهید انقلاب کے حضور محمدحسن موحدی کی یادگار تلاوت

جدائی کا درد اور یادگار عبا کی نشانی+ ویڈیو

8:06 - May 11, 2026
خبر کا کوڈ: 3520200
ایکنا: ایران کے بین الاقوامی قاری محمدحسن موحدی نے شہیدِ انقلاب رہبر کے فراق کے غم، ان کی محفل میں اپنی پہلی تلاوت، اور رہبرِ معظم کی جانب سے عبا بطور ہدیہ ملنے کی یادگار داستان بیان کی۔

ایکنا نیوز کے مطابق معروف ایرانی قاری محمدحسن موحدی نے ٹیلی ویژن پروگرام «دیدار» میں، جو سیدوحید مرتضوی کی میزبانی میں شبکه قرآن و معارف سیما سے نشر ہوتا ہے، شہیدِ انقلاب رہبر آیت‌الله العظمی سیدعلی خامنه‌ای سے اپنی ملاقاتوں کی یادیں اور بعض ناگفتہ باتیں بیان کیں۔

موحدی نے کہا: ہم ابھی تک اپنے رہبر کے غم میں صحیح معنوں میں سوگ بھی نہیں منا سکے۔ ایک دبی ہوئی کسک ہمارے سینوں میں موجود ہے، مگر معلوم نہیں کب اسے اظہار کا موقع ملے گا۔ ہمیں ابھی تک وہ فرصت نہیں ملی کہ ہم بھی اپنے غم کا اسی طرح اظہار کر سکیں جیسے ہمارے بزرگوں نے امام خمینی کے انتقال پر کیا تھا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2005ء میں بین الاقوامی قرآنی مقابلے میں کامیابی کے بعد انہیں ایک علمی و ثقافتی نابغہ شخصیت کے طور پر رہبرِ انقلاب کی نخبگان سے ملاقات میں تلاوت کے لیے دعوت دی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے سورۂ فتح کی آیات کی تلاوت کی، جسے رہبرِ معظم نے خصوصی توجہ اور محبت سے سنا، لیکن اس وقت انہیں قریب سے مصافحہ اور گفتگو کا موقع نہ مل سکا۔

بین الاقوامی قاری نے مزید کہا کہ رمضان المبارک 2007ء کے آغاز میں قرآنی شخصیات کی رہبرِ انقلاب سے ملاقات کے دوران انہیں دوبارہ تلاوت کا شرف حاصل ہوا۔ اس ملاقات کی خاص بات یہ تھی کہ پہلی مرتبہ انہیں رہبرِ معظم سے مصافحہ کرنے کا موقع ملا۔

انہوں نے کہا کہ تلاوت سے قبل انہیں ایک شہید کے فرزند کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔ تلاوت کے بعد رہبرِ معظم نے محبت بھرے انداز میں فرمایا: "تلاوت بہت اچھی تھی۔"

موحدی نے بتایا کہ جب انہوں نے اپنے والد، شہید موحدی، کا ذکر کیا تو انہیں پہلے سے معلوم تھا کہ رہبرِ معظم غیر معمولی حافظے کے مالک ہیں، مگر یہ تصور نہیں تھا کہ والد کی شہادت کے گیارہ سال بعد بھی وہ انہیں یاد رکھتے ہوں گے۔ رہبرِ معظم نے فوراً ان کے والد کو پہچان لیا، جس سے ان کے دل میں مزید محبت اور شفقت کا احساس پیدا ہوا۔

انہوں نے ایک اور یادگار واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسی ملاقات میں انہوں نے رہبرِ انقلاب سے درخواست کی کہ انہیں اپنی عبا بطور ہدیہ عطا کریں۔ رہبرِ معظم نے مسکراتے ہوئے فرمایا: کیا یہی عبا چاہتے ہیں؟

پھر فرمایا کہ یہ عبا تو ممکن نہیں، لیکن وہ ان کے لیے ایک عبا بھیج دیں گے۔ موحدی کے مطابق، انہیں گمان تھا کہ رہبرِ معظم کی بے شمار مصروفیات کے باعث شاید یہ بات بھلا دی جائے گی، لیکن ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں، جب وہ مدرسے میں تدریس کر رہے تھے، انہیں رہبرِ انقلاب کے دفتر سے فون آیا اور بتایا گیا کہ وہ ہدیہ وصول کرنے کے لیے تشریف لائیں۔

انہوں نے کہا کہ کئی برسوں سے وہ مختلف محافل، حتیٰ کہ بیرونِ ملک پروگراموں میں بھی اسی عبا کے ساتھ تلاوت کرتے ہیں، اور تلاوت سے پہلے حاضرین کو بتاتے ہیں کہ یہ عبا رہبرِ انقلاب کا عطیہ ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 2010ء میں بحرین میں بھی انہوں نے اسی عبا کے ساتھ تلاوت کی، جہاں انقلابِ اسلامی اور رہبرِ انقلاب کے ساتھ شیعیانِ بحرین کی محبت اور عقیدت انہیں بے حد متاثر کن اور مثال بننے والی محسوس ہوئی۔/

 

ویڈیو کا کوڈ
 
ویڈیو کا کوڈ

4351139

نظرات بینندگان
captcha