
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق پیر، جو ماہِ مبارک ذی الحجہ کا پہلا دن ہے، «ایامِ معلومات» یعنی وہ عظیم دس دن شروع ہو رہے ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے سورۂ حج کی آیت 28 میں فرمایا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
تاکہ وہ اپنے فائدوں کے لیے حاضر ہوں اور ان مقررہ دنوں میں ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اس نے انہیں عطا کیے ہیں، پھر ان میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاج و فقیر کو بھی کھلاؤ۔
ماہِ ذی الحجہ کے آغاز کے ساتھ ہی حجاجِ کرام میقات میں حاضری اور مناسکِ حج کی ادائیگی کے لیے تیار ہوتے ہیں؛ وہ اعمال جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے عظیم فوائد حاصل کرنے کا حکم دیا ہے۔ تاہم حج کے فوائد صرف حجاج تک محدود نہیں بلکہ تمام مسلمان ان دنوں میں مستحب اعمال بجا لا کر سال کے بہترین ایام سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
ماہِ ذی الحجہ کے پہلے دن کے مخصوص اعمال
اس مبارک دن کے لیے درج ذیل مستحب اعمال بیان کیے گئے ہیں:
1۔ روزہ رکھنا۔
2۔ حضرت فاطمہؑ کی نماز پڑھنا۔
3۔ دو رکعت نماز: ظہر سے تقریباً آدھا گھنٹہ پہلے دو رکعت نماز پڑھی جائے، ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورۂ حمد، دس مرتبہ سورۂ توحید، دس مرتبہ آیۃ الکرسی اور دس مرتبہ سورۂ اِنّا اَنزلناہ پڑھی جائے۔
4۔ اگر کسی کو کسی ظالم کا خوف ہو تو اس دن یہ دعا پڑھے:
حَسْبی حَسْبی حَسْبی مِنْ سُؤالی، عِلْمُکَ بِحالی
تاکہ اللہ تعالیٰ اسے اس ظالم کے شر سے محفوظ رکھے۔
ذی الحجہ کے پہلے دس دنوں کے اعمال
ماہِ ذی الحجہ خصوصاً اس کے پہلے دس دنوں کے لیے بہت سی دعائیں اور مستحب اعمال نقل ہوئے ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں:
نماز
امام جعفر صادقؑ فرماتے ہیں کہ میرے والد امام محمد باقرؑ نے فرمایا: بیٹے! ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں (یعنی پہلی رات سے عیدِ قربان کی رات تک) مغرب اور عشاء کے درمیان دو رکعت نماز ترک نہ کرنا۔ ہر رکعت میں سورۂ حمد اور سورۂ توحید پڑھو، پھر یہ آیت تلاوت کرو:
‘وَوَاعَدْنَا مُوسَىٰ ثَلَاثِينَ لَيْلَةً وَأَتْمَمْنَاهَا بِعَشْرٍ فَتَمَّ مِيقَاتُ رَبِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً وَقَالَ مُوسَىٰ لِأَخِيهِ هَارُونَ اخْلُفْنِي فِي قَوْمِي وَأَصْلِحْ وَلَا تَتَّبِعْ سَبِيلَ الْمُفْسِدِينَ’ (اعراف: 142)۔”
اگر کوئی شخص یہ عمل انجام دے تو وہ حجاجِ کرام اور ان کے اعمالِ حج کے ثواب میں شریک ہوگا۔
روزہ رکھنا
ایک روایت میں امام موسیٰ کاظمؑ فرماتے ہیں: “جو شخص ذی الحجہ کے پہلے نو دن روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے پوری عمر کے روزوں کا ثواب لکھتا ہے۔”
پانچ دعاؤں کا ذکر
امام محمد باقرؑ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیلؑ کے ذریعے حضرت عیسیٰؑ کو پانچ دعائیں بطور تحفہ عطا فرمائیں تاکہ وہ ان دس دنوں میں انہیں پڑھیں۔ اگر کوئی شخص ہر روز ان پانچ دعاؤں میں سے ہر ایک کو دس مرتبہ پڑھے تو اس نے روایت پر عمل کیا۔ یہ پانچ دعائیں درج ذیل ہیں:
اَشْهَدُ اَنْ لااِلهَ اِلاَّ اللهُ، وَحْدَهُ لا شَریکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ، وَهُوَ عَلی کُلِّ شَیْء قَدیرٌ. اَشْهَدُ اَنْ لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ، وَحْدَهُ لاشَریکَ لَهُ، اَحَداً صَمَداً، لَمْ یَتَّخِذْ صاحِبَةً وَلا وَلَداً. اَشْهَدُ اَنْ لا اِلـهَ اِلاَّ اللهُ، وَحْدَهُ لا شَریکَ لَهُ، اَحَداً صَمَداً، لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُولَدْ، وَلَمْ یَکُنْ لَهُ کُفُواً اَحَدٌ. اَشْهَدُ اَنْ لا اِلهَ اِلاَّ اللهُ، وَحْدَهُ لا شَریکَ لَهُ، لَهُ الْمُلْکُ وَلَهُ الْحَمْدُ، یُحْیی وَیُمیتُ، وَهُوَ حَیٌّ لا یَمُوتُ، بِیَدِهِ الْخَیْرُ، وَهُوَ عَلی کُلِّ شَیْء قَدیرٌ. حَسْبِیَ اللهُ وَکَفی، سَمِعَ اللهُ لِمَنْ دَعا، لَیْسَ وَرآءَ اللهِ مُنْتَهی،اَشْهَدُللهِ بِما دَعا،وَاَنَّهُ بَریءٌ مِمَّنْ تَبَرَّءَ، وَاَنَّ لِلّهِ الاْخِرَةَ وَالاْولی.
قرائت سوره فجر
ایک حدیث میں رسولِ اکرم ﷺ سے نقل ہوا ہے: جو شخص ماہِ ذی الحجہ کے پہلے عشرے میں سورۂ فجر کی تلاوت کرے، اس کے گناہ بخش دیے جاتے ہیں، اور اگر ان ایام کے علاوہ اسے پڑھے تو یہ قیامت کے دن اس کے لیے نورانیت کا سبب بنے گی۔
اسی طرح ان دس دنوں میں حضرت فاطمہ زہراؑ کی نماز ادا کرنا اور نماز کے بعد وہ دعا پڑھنا جو امام جعفر صادقؑ سے روایت ہوئی ہے، بھی مستحب اور سفارش شدہ اعمال میں شمار ہوتے ہیں۔/
4352869