
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، چاہِ زمزم مسلمانوں کے ہاں نہایت روحانی اور علامتی حیثیت رکھتا ہے اور مسجدالحرام کے دیگر مقدس مقامات کے ساتھ مکہ مکرمہ کے اہم زیارتی مقامات میں شمار ہوتا ہے۔ حج کے سفر میں آنے والا ہر زائر اس مقدس پانی سے برکت حاصل کرتا ہے۔
زمزم مسجدالحرام کے متبرک آثار میں سے ایک ہے جسے چاہِ اسماعیل اور “حفیرة عبدالمطلب” کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ یہ مقدس کنواں بیت اللہ کے جوار میں واقع ہے۔
اس کی تاریخ تقریباً 1900 قبل مسیح تک جاتی ہے اور اسے حضرت ابراہیمؑ کے زمانے سے جوڑا جاتا ہے، جب اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیمؑ نے اپنی زوجہ حضرت ہاجرہؑ اور بیٹے حضرت اسماعیلؑ کو مکہ کی وادی میں چھوڑا۔ پیاس کی شدت کے وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیلؑ کے ذریعے یہ چشمہ جاری فرمایا، جو حضرت اسماعیلؑ اور حضرت ہاجرہؑ کی زندگی کی بقا کا ذریعہ بنا۔ اس طرح زمزم اللہ کی عظیم نشانیوں اور معجزات میں سے ایک قرار پایا۔

تاریخی روایات کے مطابق مکہ کے مؤرخ ازرقی نے متعدد کنوؤں کا ذکر کیا ہے جو زمزم سے پہلے اور بعد میں موجود رہے، لیکن وقت کے ساتھ زیادہ تر ختم ہو گئے۔ تاہم زمزم آج بھی اپنی اصل حالت میں قائم ہے اور اسے ایک الٰہی فیض کا جاری چشمہ سمجھا جاتا ہے جو قیامت تک خشک نہیں ہوگا۔
زمزم کا کنواں مسجدالحرام کے طواف کے علاقے میں، کعبہ کے مشرق میں، حجرِ اسود اور بابِ کعبہ کے درمیان واقع ہے۔

یاقوت حموی کی کتاب “معجم البلدان” کے مطابق زمزم کے مختلف نام بھی استعمال ہوتے رہے ہیں، جیسے زمام، زمزم اور زمزم۔ اس کے علاوہ اسے “حزمة جبرئیل”، “رکدة جبرئیل” اور “حزمة الملک” جیسے ناموں سے بھی یاد کیا گیا ہے۔ “حزمة” اور “رکدة” زمین کے نشیبی حصے کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔

مزید برآں زمزم کو “سُقْیةُ اللہ لإسماعیل”، “طعام طعام”، “شفاء سقم”، “طعام الأبرار”، “شراب الأبرار” اور “طیبہ” جیسے بابرکت ناموں سے بھی یاد کیا جاتا ہے، جو اس کی روحانی عظمت اور شفا بخش حیثیت کو ظاہر کرتے ہیں۔/

4354492