
ایکنا نیوز خراسان رضوی کے مطابق، غلام حسین مظفری نے ثقافتی کمپلیکس توس اور حکیم ابوالقاسم فردوسی کے مزار پر منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تدفین کے مقام کے اعلان کے بعد صوبائی سطح پر متعدد رابطہ اور مشاورتی اجلاس منعقد کیے گئے ہیں۔ مختلف انتظامی، خدماتی، امدادی، پولیس اور سیکیورٹی ادارے زائرین اور شرکائے تقریب کی میزبانی کے لیے ضروری انتظامات کو حتمی شکل دے رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اندازاً 80 لاکھ سے ایک کروڑ افراد اس تقریب میں شرکت کریں گے۔ اس بڑی تعداد کے پیش نظر نقل و حمل، رہائش، شہری سہولیات، صحت، علاج، امداد اور سیکیورٹی کے شعبوں میں جامع منصوبہ بندی کی جا رہی ہے، جس کے لیے صوبائی اور قومی سطح پر متعدد خصوصی اجلاس منعقد ہو چکے ہیں۔
گورنر خراسان رضوی نے کہا کہ مشہد کو ماضی میں بھی بڑے قومی اور مذہبی اجتماعات کی میزبانی کا وسیع تجربہ حاصل ہے اور یہاں ایسے پروگراموں کے انتظام کے لیے عوامی اور انتظامی صلاحیتیں موجود ہیں۔ ان کے بقول قومی اداروں کے ساتھ بھی مسلسل رابطہ اور ہم آہنگی جاری ہے تاکہ زائرین کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
مظفری نے خراسان رضوی کی ثقافتی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ صرف ایک زیارتی مرکز نہیں بلکہ ایران کے اہم ترین تہذیبی اور ثقافتی مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ خراسان، فردوسی، عطار نیشاپوری، عمر خیام اور دیگر عظیم علمی و ادبی شخصیات کی سرزمین ہے، جس کی تاریخی اور ثقافتی میراث صوبائی انتظامیہ کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ کرتی ہے۔
انہوں نے اپنے خطاب کے اختتام پر کہا کہ شہید رہبر کی تشییع کی تقریب قومی یکجہتی، سماجی ہم آہنگی اور خراسان رضوی کی انتظامی صلاحیتوں کے اظہار کا ایک اہم موقع ہوگی۔ تمام ادارے اس بات کے لیے کوشاں ہیں کہ یہ تقریب ایرانی عوام اور زائرینِ بارگاہِ رضوی کی شان کے مطابق منعقد ہو۔ ان کے مطابق یہ روحانی اہمیت کے ساتھ ساتھ صوبے کی ثقافتی، سماجی اور انتظامی استعداد کو بھی نمایاں کرے گی۔/