رھبر کی شهادت اسلامی تشخص کی بازیابی

IQNA

یادداشت

رھبر کی شهادت اسلامی تشخص کی بازیابی

8:30 - July 05, 2026
خبر کا کوڈ: 3520399
ایکنا: تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ طاقتور افواج سرزمینوں پر قبضہ کر سکتی ہیں، عمارتوں کو مسمار کر سکتی ہیں اور رہنماؤں کو شہید کر سکتی ہیں، لیکن تاریخ یہ بھی گواہی دیتی ہے کہ وہ کسی قوم کی روح کو آسانی سے ختم نہیں کر سکتیں۔

ایکنا نیوز- جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ رہبر کی شہادت ایران کو انتشار اور بے یقینی میں دھکیل دے گی، وہ اس بنیاد کو صحیح طور پر سمجھنے میں ناکام رہے جس پر اسلامی جمہوریہ قائم ہے۔ انہوں نے قیادت کو محض ایک فرد تک محدود سمجھا، جبکہ حقیقت میں اس ملک کی قیادت ان لاکھوں دلوں میں زندہ ہے جنہوں نے ایثار، عزت اور ایمان کو اپنی قومی شناخت کے بنیادی ستون کے طور پر قبول کیا ہے۔

جو چیز ایران کو کمزور کرنے کے لیے کی گئی تھی، اس نے الٹا اس کے عزم کو مزید مضبوط کر دیا ہے۔

جس اقدام کا مقصد اس کی آواز کو خاموش کرنا تھا، اس نے اس کے پیغام کو مزید طاقت بخشی ہے۔

جو منصوبہ اس کے عوام میں تفرقہ پیدا کرنے کے لیے بنایا گیا تھا، اس نے انہیں پہلے سے زیادہ مضبوط ارادے کے ساتھ متحد کر دیا ہے۔

اسلامی تاریخ میں شہادت کبھی شکست کی علامت نہیں رہی۔ کربلا سے لے کر آج تک، شہداء کا خون اخلاقی بیداری اور شعور کا سرچشمہ بنتا رہا ہے۔ ان کی قربانیاں ہر نسل کو یاد دلاتی ہیں کہ عدل کی ایک قیمت ہوتی ہے اور آزادی کو وہی لوگ محفوظ رکھتے ہیں جو اس کے دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہوتے ہیں۔

رہبرِ شہید کی تشییعِ جنازہ محض ایک الوداعی تقریب نہیں، بلکہ پوری دنیا کے سامنے ایک اعلان بن چکی ہے کہ ایران شدید بیرونی دباؤ کے باوجود متحد اور ثابت قدم ہے۔ اس عظیم اجتماع میں شریک لاکھوں افراد صرف سوگوار نہیں ہیں، بلکہ وہ اس عہد کی تجدید کر رہے ہیں کہ قوم کی آزادی، خودمختاری اور اسلامی شناخت کو نہ دھمکیوں کے ذریعے جھکایا جا سکتا ہے اور نہ ہی فوجی جارحیت کے ذریعے۔

یہ وہ پیغام ہے جس کا اندازہ واشنگٹن اور تل ابیب کے بہت سے حکمتِ عملی ساز نہ لگا سکے۔

فوجی برتری کبھی حقیقی جواز اور مقبولیت پیدا نہیں کر سکتی۔

اقتصادی پابندیاں پختہ عقیدے کو ختم نہیں کر سکتیں۔

نفسیاتی جنگ ایسے عوام کو شکست نہیں دے سکتی جن کی مزاحمت ایمان کی بنیاد پر قائم ہو۔

ایران کئی دہائیوں سے پابندیوں، سفارتی تنہائی، خفیہ کارروائیوں، سائبر حملوں، تخریب کاری اور فوجی دھمکیوں کا سامنا کرتا آیا ہے، لیکن اس کے باوجود یہ قوم ثابت قدم کھڑی ہے۔ اس استقامت کی وضاحت صرف عسکری تیاری یا سیاسی اداروں سے نہیں کی جا سکتی، بلکہ یہ اس اجتماعی یقین کا نتیجہ ہے کہ قومی عزت اور خودمختاری ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتیں۔

بیرونی تسلط کے بغیر ایک آزاد سیاسی، سائنسی اور تزویراتی راستے کا تحفظ

ایران کو کمزور کرنے کا مقصد ہمیشہ محض جغرافیائی سیاست تک محدود نہیں رہا۔ اصل ہدف ان چند اسلامی ممالک میں سے ایک کو نشانہ بنانا رہا ہے جو بیرونی تسلط کے بغیر اپنے آزاد سیاسی، سائنسی اور تزویراتی راستے پر قائم رہنے پر اصرار کرتے ہیں۔

اس لیے یہ جدوجہد صرف ایک قوم کی جدوجہد نہیں ہے۔

یہ دراصل اس سوال کا امتحان ہے کہ آیا امت اسلامی یا اسلامی تہذیب اپنے مستقبل کا تعین اپنی اقدار اور اصولوں کی بنیاد پر کر سکتی ہے یا نہیں۔

عالمِ اسلام میں بہت سے لوگ ان واقعات کو گہری سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں۔ کوئی شخص ایران کے سیاسی نظام کے ہر پہلو سے اتفاق کرے یا نہ کرے، یہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ آزاد ممالک کے خلاف بیرونی جارحیت پوری امت کے لیے ایک خطرناک مثال قائم کرتی ہے۔

اگر ایک خودمختار قوم کو صرف اس لیے منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا سکتا ہے کہ وہ سر تسلیم خم کرنے سے انکار کرتی ہے، تو پھر کوئی بھی ایسی قوم جو اپنی آزادی اور خودمختاری کی قدر کرتی ہو، لاتعلق نہیں رہ سکتی۔

اسی لیے رہبرِ معظم انقلاب کی شہادت ایک ایسے فیصلہ کن لمحے میں تبدیل ہو چکی ہے جو ایران کی سرحدوں سے کہیں آگے تک اثرات رکھتا ہے۔ یہ واقعہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو وحدت، شجاعت اور تزویراتی خودمختاری کو دوبارہ دریافت کرنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ امت کو یاد دلاتا ہے کہ داخلی اختلافات اس کی سب سے بڑی کمزوری ہیں، جبکہ اتحاد اور یکجہتی اس کی سب سے بڑی طاقت ہیں۔

ایران کے دشمن خوف کی توقع کر رہے تھے، مگر انہیں استقامت کا سامنا کرنا پڑا۔

وہ زوال اور انتشار کے منتظر تھے، مگر انہوں نے تسلسل اور پائیداری دیکھی۔

وہ مایوسی کی امید لگائے بیٹھے تھے، مگر ان کے سامنے ایک نیا اعتماد اور حوصلہ ابھر آیا۔

ایران کی روح اپنے شہداء کے ساتھ دفن نہیں ہوئی۔

بلکہ انہی کے خون سے ایک نئی زندگی پا کر اٹھ کھڑی ہوئی ہے۔

تاریخ اکثر ان لوگوں کو یاد نہیں رکھتی جو صرف عظیم فوجی طاقت کے مالک تھے، بلکہ ان افراد اور اقوام کو یاد رکھتی ہے جنہوں نے سخت ترین آزمائشوں کے باوجود اپنے اصولوں سے دستبردار ہونے سے انکار کر دیا۔

قومیں صرف ہتھیاروں کے سہارے زندہ نہیں رہتیں، بلکہ وہ اپنی یادوں، عقائد، قربانیوں اور اس غیر متزلزل یقین کے سہارے زندہ رہتی ہیں کہ عدل اور حق کے لیے ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔

دنیا اس وقت تاریخ کے ایک نئے باب کو کھلتے ہوئے دیکھ رہی ہے۔

ایران کی روح بیدار ہو چکی ہے اور اپنے عظیم شہید رہبر کی یاد کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا ہے۔

اور تمام مشکلات کے باوجود، ایک اسلامی قوم کی روح کو مٹانے کی ہر کوشش کے مقابلے میں ثابت قدمی سے مزاحمت کر رہا ہے۔

ملایشین اسلامی مشاورتی سپریم کونسل کے صدر محمد عزمی عبدالحمید کے قلم سے۔/

 

4362086

نظرات بینندگان
captcha