شیخ کفاح محمد بطہ، جو وولگوگراد کے مرکزی ادارۂ مسلمانوں کے مفتی اور روسی فیڈریشن کی دینی تنظیمِ مسلمانوں کے نائب مفتی بھی ہیں، نے تہران میں "آقایِ شہیدِ ایران" کی الوداعی تقریب کے موقع پر ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی وحدت اور تقریبِ مذاہب کے بارے میں شہید رہبر کی فکر محض ایک نظریہ نہیں بلکہ ایک مکمل مکتب تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب اسلام پر ایمان رکھتے ہیں، ایک ہی خدا کی عبادت کرتے ہیں، ہمارا قرآن اور ہمارے نبی ایک ہیں، اور مسلمانوں کے درمیان بہت سے مقدسات مشترک ہیں جن میں کوئی اختلاف نہیں۔ اس لیے تقریبِ مذاہب صرف ایک فکری تصور نہیں بلکہ ایک ایسا مکتب ہے جسے محض نظریاتی سطح پر نہیں بلکہ مسلمانوں کے لیے ایک ضابطۂ عمل اور قانون کے طور پر نافذ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر اسلامی وحدت کے قیام کے لیے خصوصی دلچسپی رکھتے تھے اور مسلمانوں کی صفوں میں اتحاد اور یکجہتی پیدا کرنے کے لیے عملی اقدامات کرتے رہے۔ عالمی مجمع برائے تقریبِ مذاہبِ اسلامی، جس کی رکنیت دنیا کے متعدد ممالک کے پاس ہے، اسی فکر کا عملی نتیجہ ہے۔ یہ ادارہ مختلف ممالک میں مسلمان علماء کی کانفرنسیں منعقد کرتا رہا ہے اور امتِ مسلمہ کے مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان اتحاد و ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر چکا ہے۔
شہید رہبر اور فکرِ مقاومت کے ذریعے تقریبِ مذاہب کا فروغ
مقدساتِ ادیان کی توہین کی ممانعت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں شیخ کفاح محمد بطہ نے کہا کہ تقریبِ مذاہب کی بنیاد ہی اس اصول پر قائم ہے کہ کسی بھی دین یا اسلامی مسلک کے مقدسات کی توہین نہ کی جائے۔ شہید رہبر نے بھی اسی اصول کو اپنا نصب العین بنایا اور مسلمانوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے والے عوامل کو معاشرے میں راسخ کرنے کی مسلسل کوشش کی۔ اسی وجہ سے تمام مسلمان ان کی فکر سے محبت رکھتے ہیں اور تمام ادیان و مذاہب کے مقدسات کے احترام کو اہمیت دیتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی انقلاب کے شہید رہبر کی فکر اپنے زمانے سے بہت آگے تھی۔ وہ مزاحمت کے راستے میں بھی پیش پیش رہے اور مقاومت کی حمایت کو اپنی حکمتِ عملی کا بنیادی حصہ بنایا۔ ان کے بقول، مقاومت کی حمایت کسی ایک مسلک تک محدود مسئلہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر اسلامی موقف ہے، اسی لیے اہلِ سنت کے حلقوں میں بھی اس کے بے شمار حامی موجود ہیں۔ شہید رہبر نے فکرِ مقاومت کو بنیاد بنا کر تقریبِ مذاہب کو عملی میدان میں نافذ کیا، اور یہی درست راستہ بالآخر کامیابی سے ہمکنار ہوا۔/
4362849