ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز کے مطابق، مرکز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ تعلیمی اور تربیتی پروگرام بدستور جاری ہیں، تاہم ان کے تسلسل کے لیے قرآنِ کریم کے نسخے، پنکھے، صاف پانی اور طلبہ کی بنیادی ضروریات کی فراہمی ناگزیر ہے۔
یہ مرکز حفظِ قرآن، دینی خطابات، جامعاتی پروگرام، موسمِ گرما کی تعلیمی سرگرمیوں اور بزرگوں کے لیے حلقہ ہائے تلاوت سمیت متعدد پروگرام منعقد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں اور بڑوں دونوں کو قرآنِ کریم کی ناظرہ تعلیم بھی دی جاتی ہے۔
مرکز میں "قرآنی کلیاں" کے نام سے ایک خصوصی پروگرام بھی جاری ہے، جس میں مختلف عمر کی طالبات، ابتدائی جماعتوں سے لے کر یونیورسٹی کی سطح تک، قرآن کے ساتھ ساتھ آداب، اخلاق، فقہ اور سنت کی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔
مرکز کے نگرانوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ جنگ نے ایک نئی صورتِ حال پیدا کر دی ہے، جس کے پیشِ نظر ہر عمر کے طلبہ کے دلوں میں قرآنی اقدار کو راسخ کرنا اور انہیں قرآنِ کریم سے مضبوط تعلق میں جوڑے رکھنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مرکز خواتین اور بچوں کے لیے تجوید و قراءت کے قواعد کی باقاعدہ تعلیم بھی فراہم کرتا ہے۔ یہاں چھ سے نو سال عمر کے لڑکے اور پانچ سے نوّے سال تک کی عمر کی طالبات قرآن کی تعلیم حاصل کرتی ہیں۔
مرکز کی انتظامیہ کے مطابق طلبہ کا تعلیمی دن صبح آٹھ بجے شروع ہوتا ہے۔ وہ اپنے گھروں، عارضی خیموں یا پناہ گاہوں کے طور پر استعمال ہونے والے اسکولوں سے مسجد پہنچتے ہیں، جہاں دوپہر دو بجے تک جاری رہنے والے روزانہ کے پروگرام میں احکامِ قرآن اور حفظِ قرآن کے اسباق شامل ہوتے ہیں۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اتنے طویل تعلیمی اوقات کے باعث طلبہ کو ہلکی پھلکی غذا یا دیگر حوصلہ افزا سہولیات فراہم کرنا ضروری ہے تاکہ وہ حفظِ قرآن کا سفر جاری رکھ سکیں۔
قرآنِ کریم کے نسخوں کی شدید قلت کے باعث مرکز نے زبانی تدریس کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ اساتذہ حفظ سے تلاوت کرتے ہیں، ابتدا پارہ 30 سے کی جاتی ہے اور پھر دیگر پاروں کی تعلیم دی جاتی ہے، تاکہ محدود وسائل کے باوجود تدریس کا سلسلہ جاری رہ سکے۔
مرکز کے ذمہ داران کے مطابق مسجد میں موجود قرآنِ کریم کے بیشتر نسخے پھٹ چکے یا بوسیدہ ہو گئے ہیں، جبکہ بعض نسخے تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے سے نکال کر طلبہ کی تعلیم کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جنگی حالات کے باوجود ان کا مقصد نئی نسل کے دلوں میں قرآنِ کریم کو زندہ رکھنا اور ان کی دینی شناخت کی حفاظت کرنا ہے۔
مرکز کے ایک طالب علم نے بتایا کہ مجھے سب سے زیادہ خوشی اس وقت ہوتی ہے جب میں مسجد جا کر قرآنِ کریم حفظ کرتا ہوں، احادیثِ نبوی ﷺ سیکھتا ہوں اور تجوید و خوش الحانی کے اصولوں کی تعلیم حاصل کرتا ہوں۔/
4363551