صہیونی حامی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی اچانک موت

IQNA

صہیونی حامی امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی اچانک موت

8:54 - July 13, 2026
خبر کا کوڈ: 3520441
ایکنا: امریکی ذرائع ابلاغ نے معروف ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے انتقال کی خبر دی ہے۔ وہ امریکی کانگریس میں ایران کے سخت ناقد اور اسرائیل کے مضبوط حامی سیاست دانوں میں شمار کیے جاتے تھے۔

ایکنا نیوز- بلومبرگ کے مطابق، لنڈسے گراہم، جو امریکی سینیٹ میں خارجہ پالیسی کے حوالے سے نمایاں اور سخت گیر مؤقف رکھنے والی شخصیات میں شامل تھے، مختصر اور اچانک علالت کے بعد انتقال کر گئے۔

ان کے دفتر کی جانب سے جاری ایک مختصر آن لائن بیان میں کہا گیا کہ سینیٹر لنڈسے گراہم 11 جولائی کی شام مختصر علالت کے بعد وفات پا گئے۔ ابتدائی بیان میں موت کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، تاہم بعد ازاں امریکی ذرائع نے ابتدائی طبی معلومات کے حوالے سے بتایا کہ ان کی وفات شہ رگ (Aortic Dissection) سے متعلق عارضے کے باعث ہوئی۔

صہیونی ٹی وی چینل آئی 24 کے صحافی آمیچائی اسٹین نے سوشل میڈیا پر ردِعمل دیتے ہوئے لکھا کہ سینیٹر لنڈسے گراہم، اسرائیل کے حامی اور سینیٹ میں اسرائیل کے بڑے دوستوں میں سے ایک، انتقال کر گئے۔

لنڈسے گراہم کون تھے؟

لنڈسے گراہم امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کو مضبوط بنانے کے حامی تھے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اسرائیل سے متعلق پالیسیوں کے نمایاں حامیوں میں شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے اور مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں پر اسرائیلی خودمختاری کو تسلیم کرنے جیسے اقدامات کی حمایت کی تھی۔

گارڈین کے مطابق وہ امریکہ کی بیرونِ ملک فوجی مداخلت کے بھی مضبوط حامی تھے اور عراق و شام میں امریکی فوجی موجودگی بڑھانے کی وکالت کرتے رہے۔

لنڈسے گراہم امریکی کانگریس میں اسرائیل کے بااثر حامیوں میں شمار ہوتے تھے اور "طوفان الاقصیٰ" کے بعد غزہ کی جنگ کے دوران اسرائیل کو مزید فوجی امداد اور اسلحہ فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کرتے رہے۔

وہ ایران کے جوہری پروگرام کے سخت مخالف تھے اور متعدد مواقع پر یہ مؤقف اختیار کر چکے تھے کہ اگر ایران یورینیم کی افزودگی میں اضافہ کرے تو امریکہ کو ایران کی تیل کی تنصیبات اور ریفائنریوں کو نشانہ بنانے پر غور کرنا چاہیے تاکہ اس کی معیشت پر دباؤ ڈالا جا سکے۔/

 

4363562

نظرات بینندگان
captcha