ایکنا نیوز- اخبار الشیعہ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی یونیورسٹی آف لیڈز میں مابعد نوآبادیاتی فکر اور سماجی نظریات کے پروفیسر سلمان سید نے اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلاموفوبیا اب محض نفرت یا انفرادی تعصب کا اظہار نہیں رہا، بلکہ ایک سیاسی اور ادارہ جاتی منصوبے کی شکل اختیار کر چکا ہے جس میں نسل پرستانہ پہلو نمایاں ہیں۔ ان کے بقول اگر اس کا اجتماعی اور منظم انداز میں مقابلہ نہ کیا گیا تو یہ نسل کشی جیسے سنگین نتائج کا باعث بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیا کا مقصد مسلمانوں کی اپنی مذہبی شناخت کے اظہار اور عوامی زندگی میں ان کی مؤثر شرکت کو محدود کرنا ہے۔ یہ رجحان روزمرہ امتیازی سلوک اور انفرادی حملوں سے لے کر ریاستی اور ادارہ جاتی پالیسیوں تک پھیلا ہوا ہے، جبکہ اسے صرف چند الگ تھلگ واقعات تک محدود کر دینا اس کی وسیع تر سیاسی اور نظریاتی حقیقت کو چھپا دیتا ہے۔
پروفیسر سلمان سید نے مزید کہا کہ اسلاموفوبیا ہمیشہ ذاتی نفرت کے جذبات سے جنم نہیں لیتا، بلکہ یہ سرکاری پالیسیوں اور ادارہ جاتی طریقۂ کار کے نتیجے میں بھی مختلف عملی اقدامات اور رویّوں کی صورت میں ظاہر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے بوسنیا، چیچنیا، مشرقی ترکستان، کشمیر اور اراکان (میانمار) میں مسلمانوں کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاصر تاریخ اس سوچ کے تباہ کن نتائج کی متعدد مثالیں پیش کرتی ہے۔
انہوں نے فلسطین کے مسئلے کو استعمار اور امتیازی سلوک کے خلاف عالمی مزاحمت کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینیوں کو غیر انسانی ثابت کرنے والا بیانیہ، معاصر اسلاموفوبیا کی نمایاں مثالوں میں سے ایک ہے۔
پروفیسر سلمان سید نے زور دیا کہ اسلاموفوبیا کا مقابلہ صرف بین المذاہب مکالمے یا اسلام کے تعارف تک محدود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اسے نسلی امتیاز کی ایک ایسی شکل کے طور پر تسلیم کرنا ضروری ہے جو نسلی قوم پرستی کے فروغ سے گہرا تعلق رکھتی ہے۔
انہوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے منظم سیاسی اور سماجی حکمتِ عملی اختیار کرنے، شہری تنظیموں اور سماجی نیٹ ورکس کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ وہ بنیادی حقوق اور شہری آزادیوں کا مؤثر دفاع کر سکیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد دراصل عدل، مساوات اور انسانی حقوق کے تحفظ کی جدوجہد بھی ہے، اور اجتماعی اقدام، منظم سماجی سرگرمی اور عوامی شمولیت ہی امتیازی سلوک کا مؤثر مقابلہ کرنے اور نفرت انگیز مہمات کے مقابلے میں تکثیریت اور پرامن بقائے باہمی کے تحفظ کا بہترین ذریعہ ہیں۔/