تیونس سے تعلق رکھنے والے ادیب اور ادبِ مزاحمت کے ماہر استاد منی بعزاوی نے تہران میں "شہیدِ ایران" کو الوداع کہنے کی تقریب کے موقع پر ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای کی حکمتِ عملی تین بنیادی ستونوں "قیادت، حاکمیت اور پیش قدمی" پر قائم تھی، اور اس طرزِ فکر نے نہ صرف عظیم فتوحات کو ممکن بنایا بلکہ دنیا بھر میں انسانی اقدار کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای نے اسلامی اتحاد کے قیام اور فلسطین کے نصب العین کی حمایت میں ان اصولوں کی اہمیت کو عملی طور پر ثابت کیا۔ ان کے نزدیک فلسطین صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام اقوام اور دنیا کے آزاد انسانوں کا مشترکہ مسئلہ تھا۔
بعزاوی نے مزاحمت کی متعدد ممتاز شخصیات، جن میں شہید سید حسن نصر اللہ اور شہید سردار قاسم سلیمانی بھی شامل ہیں، کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس مقدس مقصد کی حفاظت کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ آیت اللہ خامنہ ای مزاحمت کو امتِ مسلمہ اور پوری انسانیت کے لیے صبر، حکمت اور ہدایت کی علامت سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک اس کا مقصد عزت و وقار کا تحفظ، سرزمین کا دفاع اور اقوام کے اعلیٰ مقاصد کی تکمیل تھا۔
منی بعزاوی تونس کے معروف شاعر اور مصنف ہیں۔ انہوں نے اپنی ماسٹرز کی تحقیق "معاصر عرب ثقافت میں عورت اور شرف" کے موضوع پر مکمل کی، جبکہ ان کا ڈاکٹریٹ کا مقالہ "قدردانی اور اس کے اسلامی تصوف پر اثرات" کے موضوع پر ہے۔ اب تک وہ کم از کم 15 ادبی مقالات، چھ شعری مجموعے اور دو کتابیں شائع کر چکے ہیں۔ عربی کے علاوہ وہ فرانسیسی، کسی حد تک انگریزی اور فارسی زبان بھی بولتے ہیں۔/
4363375