اربعین میں صحت کے چھٹے بین الاقوامی کانگریس کی سائنسی کمیٹی کی سربراہ وحیدہ مرادی نے ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک سے 500 تحقیقی مقالات موصول ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کانگریس میں 12 علمی پینلز اور 7 تربیتی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ یہ کانگریس اتوار اور پیر کو ایران یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز میں منعقد ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ کانگریس کے ابتدائی برسوں میں چونکہ اربعین کے دوران صحت سے متعلق مسائل کی نشاندہی اور ان کی بنیاد رکھنے کا مرحلہ تھا، اس لیے بنیادی نوعیت کے صحت کے موضوعات پر توجہ دی جاتی تھی۔ مقصد یہ تھا کہ اربعین کے دوران صحت اور طبی خدمات فراہم کرنے والی ماہر ٹیمیں اس شعبے میں تیار ہونے والی تحقیق اور علمی مواد سے استفادہ کر سکیں۔
مرادی نے کہا کہ ہر سال اربعین کے دوران حاصل ہونے والے تجربات اور سیکھے گئے اسباق نے عوامی آگاہی اور طبی خدمات میں نمایاں بہتری پیدا کی ہے۔ اسی بنیاد پر ہر سال کانگریس کے لیے نئے موضوعات اور مختلف زاویے اختیار کیے جاتے ہیں، جبکہ اس سال پہلی مرتبہ کئی جدید اور اختراعی موضوعات بھی شامل کیے گئے ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس سال کے اہم موضوعات میں خدام اور موکب منتظمین کو صحت و صفائی کے اصولوں کی تربیت بھی شامل ہے۔ چونکہ اربعین کے دوران بڑی تعداد میں موکب عوامی تعاون اور رضاکارانہ بنیادوں پر چلائے جاتے ہیں، اس لیے ایک خصوصی علمی پینل موکب کے منتظمین اور کارکنوں کی تربیت کے لیے مختص کیا گیا ہے تاکہ وہ صحت و صفائی کے اعلیٰ معیار کے مطابق موکبوں کا انتظام کر سکیں۔
چھٹے بین الاقوامی کانگریس کی سائنسی کمیٹی کی سربراہ نے مزید کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں معاشرے میں روایتی طب (طبِ سنتی) سے علاج کی طرف رجحان بڑھا ہے، اسی لیے ایک خصوصی پینل اس بات کے لیے مختص کیا گیا ہے کہ اربعین پیدل مارچ کے دوران عوام کی ضروریات پوری کرنے کے لیے روایتی طب کو سائنسی بنیادوں پر کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ بڑے عوامی اجتماعات کے انتظام میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی کام کیا گیا ہے اور اس موضوع کے لیے بھی ایک خصوصی علمی پینل رکھا گیا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں کانگریس کے موضوعات زیادہ عمومی نوعیت کے ہوتے تھے، لیکن اب چونکہ اربعین میں مختلف خصوصی طبقات، جیسے دائمی بیماریوں، نظامِ ہاضمہ کے امراض میں مبتلا افراد، بزرگ، بچے اور دیگر حساس گروہ بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں، اس لیے ان گروہوں کو بہتر اور مؤثر طبی و صحت کی خدمات فراہم کرنے کے طریقوں پر بھی علمی مباحث پیش کیے جائیں گے۔/
4363826