عراقی مساجد گرمیوں کا قرآنی کورس؛ قرآنی تربیت کی کاوش

IQNA

عراقی مساجد گرمیوں کا قرآنی کورس؛ قرآنی تربیت کی کاوش

8:46 - July 16, 2026
خبر کا کوڈ: 3520456
ایکنا: عراق میں مساجد سے وابستہ قرآنی سمر کورسز؛ ایسی نسل کی تشکیل جس نے معاشرے کی رہنمائی کرنی ہے۔

عالمی اتحادِ علمائے مسلمین کے رکن اور عراقی محقق سعد الحلبوسی نے اپنے مضمون "وہ نسل جو مساجد میں پروان چڑھی" میں لکھا ہے کہ گزشتہ چند دہائیوں کے دوران عراق کی تعلیمی اور دعوتی سرگرمیوں کی تاریخ مرتب کی جائے تو مساجد میں منعقد ہونے والے موسمِ گرما کے قرآنی کورسز کو اسلامی اور قرآنی نسل کی تشکیل کے مؤثر ترین تجربات میں شمار کیا جائے گا۔

انہوں نے لکھا کہ یہ کورسز صرف حفظِ قرآن کی محفلیں نہیں تھے بلکہ ایسے تربیتی پروگرام تھے جنہوں نے ہزاروں نوجوانوں کی شخصیت سازی کی اور بعد ازاں یہی نوجوان دعوتِ دین، تعلیم اور سماجی اصلاح کے میدان میں نمایاں کردار ادا کرنے لگے۔

آغاز 1976ء سے

اگرچہ بہت سے لوگ ان کورسز کا آغاز 1991ء سے جوڑتے ہیں، لیکن حقیقت میں ان کی بنیاد 1976ء میں رکھی گئی، جب عراقی وزارتِ اوقاف نے حفظِ قرآن کی حوصلہ افزائی کے لیے ایک منصوبہ شروع کیا۔ اس منصوبے کے تحت جو شخص قرآنِ کریم کا ایک پارہ حفظ کرتا، اسے 10 عراقی دینار انعام دیا جاتا تھا۔ اس اقدام کے نتیجے میں بغداد کی متعدد مساجد میں حفظ اور تعلیمِ قرآن کے حلقے قائم ہوئے۔

یہ سلسلہ 1983ء تک ائمہ مساجد اور مبلغین کی انفرادی کوششوں سے جاری رہا اور بعد میں ایک منظم تعلیمی منصوبے کی بنیاد بن گیا، جس کے اثرات آنے والے برسوں میں وسیع ہوتے گئے۔

مصری مبلغ شیخ محمود غریب کا نمایاں کردار

اس دور میں مصری عالم شیخ محمود غریب، جو بغداد کی ابنِ بنیہ مسجد کے امام و خطیب تھے، اس تحریک کی نمایاں شخصیت بن کر سامنے آئے۔ انہوں نے محسوس کیا کہ گرمیوں کی تعطیلات نوجوانوں کی دینی و اخلاقی تربیت کے لیے بہترین موقع ہیں۔

انہوں نے شیخ عبدالمنعم الجنابی، عبدالقادر الفضلی، ہاشم المشہدانی، محمود الفلاحی اور سامی الجنابی سمیت متعدد علماء اور اساتذۂ قرآن کو اس منصوبے میں شامل کیا۔ یوں مسجد ابنِ بنیہ بغداد میں قرآنی سمر کورسز کا مرکزی مرکز بن گئی۔

شرکاء کی تعداد بڑھنے کے بعد شیخ محمود غریب نے اس منصوبے کو بغداد کی دیگر مساجد اور مختلف علاقوں تک پھیلا دیا۔ ابتدا میں چھوٹے مطالعاتی حلقوں کی صورت میں شروع ہونے والا یہ سلسلہ بعد میں ایک جامع تعلیمی منصوبہ بن گیا، اسی لیے شیخ محمود غریب کو عراق میں منظم قرآنی سمر کورسز کا بانی اور اس تحریک کا اہم معمار سمجھا جاتا ہے۔

1991ء؛ ایک اہم موڑ

1991ء میں روحانی و ایمانی مہم کے آغاز کے ساتھ یہ سرگرمیاں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئیں اور پورے عراق میں ان کا دائرہ مزید وسیع ہوگیا۔

قرآن کی تعلیم کے ساتھ کردار سازی

ان کورسز کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ ان کا مقصد صرف قرآن حفظ کروانا یا رٹوانا نہیں تھا بلکہ نوجوانوں کی شخصیت، اخلاق اور دینی شعور کی تعمیر بھی تھا۔

ان ہی کورسز سے تعلیم حاصل کرنے والے بہت سے افراد بعد میں ائمہ مساجد، خطباء، مبلغین، اساتذہ اور سماجی اصلاح کے رہنما بنے۔ انہوں نے مساجد، مدارس اور تعلیمی مراکز میں نئی نسل کی تربیت کا فریضہ انجام دیا، جس کے نتیجے میں ان کورسز کے مثبت اثرات صرف شرکاء تک محدود نہ رہے بلکہ پورے معاشرے تک پہنچے۔

نوجوانوں کے لیے مثبت ماحول

ماضی میں گرمیوں کی تعطیلات اکثر نوجوانوں کے لیے وقت کے ضیاع کا سبب بنتی تھیں، لیکن ان قرآنی کورسز نے اس خلا کو پُر کرتے ہوئے انہیں ایک صحت مند، تعمیری اور دینی ماحول فراہم کیا، جہاں وہ نیک صحبت، بہترین نمونوں اور مفید تربیتی پروگراموں سے استفادہ کرتے تھے۔

ہفتہ وار تربیتی کیمپ

بغداد کی مختلف مساجد، خصوصاً کرخ کے علاقے میں، ایک یا دو ہفتوں پر مشتمل ہفتہ وار تربیتی کیمپ بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ یہ تربیتی کیمپ صرف معلومات کی فراہمی تک محدود نہیں رہتے بلکہ نوجوانوں کو سیکھے ہوئے دینی اور اخلاقی اصولوں کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں، جس سے ان کی تربیت زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے۔

تین دہائیوں سے کامیاب تجربہ

مضمون کے اختتام پر سعد الحلبوسی لکھتے ہیں کہ اس سفر کے آغاز کو تین دہائیوں سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود عراق میں مساجد سے وابستہ قرآنی سمر کورسز اور تربیتی کیمپ آج بھی دعوتی اور تعلیمی میدان کے کامیاب ترین منصوبوں میں شمار ہوتے ہیں اور نئی نسل کی دینی، اخلاقی اور سماجی تربیت میں مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔/

 

4363814

نظرات بینندگان
captcha