ورلڈ کپ؛ ملت فلسطین کے دفاع کے لیے اسٹیج

IQNA

ورلڈ کپ؛ ملت فلسطین کے دفاع کے لیے اسٹیج

8:50 - July 16, 2026
خبر کا کوڈ: 3520457
ایکنا: ورلڈ کپ 2026 میں فلسطینی پرچموں کی گونج؛ کھلاڑیوں اور شائقین کی بھرپور یکجہتی نے فلسطینی کاز کو عالمی توجہ دلائی۔

ایکنا – فارن پالیسی ان فوکس میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ فیفا ورلڈ کپ 2026 میں فلسطین کی قومی ٹیم شریک نہیں تھی، تاہم یہ عالمی ایونٹ فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کا ایک نمایاں پلیٹ فارم بن کر سامنے آیا۔ یہ سب ایسے وقت میں ہوا جب متعدد مبصرین کے مطابق مختلف ممالک میں فلسطین کے حق میں احتجاج اور اظہارِ یکجہتی پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی بات کی جا رہی ہے۔

امریکی مصنف ڈیوڈ وائن نے اپنے مضمون میں لکھا کہ ٹورنامنٹ کے دوران فلسطین کے حق میں سامنے آنے والے مناظر ورلڈ کپ کی تاریخ کے سب سے متاثر کن لمحات میں شمار کیے جا سکتے ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب غزہ کی جنگ بدستور عالمی رائے عامہ کی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

انہوں نے لکھا کہ مصر، اسکاٹ لینڈ، برازیل، جنوبی کوریا، مراکش، میکسیکو، ترکیہ، ناروے، سینیگال، بوسنیا و ہرزیگوینا، الجزائر اور اسپین سمیت مختلف ممالک کے شائقین، کھلاڑیوں اور کوچز نے کھلے عام فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے حقِ زندگی، آزادی اور حقِ واپسی کی حمایت کی۔

مضمون کے مطابق یہ اظہارِ یکجہتی صرف شائقین تک محدود نہیں رہا بلکہ اسٹیڈیموں کے اندر بھی فلسطینی پرچم نمایاں طور پر لہرائے گئے، جبکہ بعض کھلاڑیوں اور کوچز نے بھی مقابلوں کے دوران فلسطینی پرچم اٹھائے۔ اسٹیڈیموں اور ان کے اطراف میں "فری فلسطین" کے نعرے گونجتے رہے اور ہزاروں شائقین فلسطین کی قومی ٹیم کی جرسی پہن کر اپنی حمایت کا اظہار کرتے دکھائی دیے۔

اسی طرح بعض تماشائیوں نے "اسرائیل کو فیفا سے خارج کرو" اور "اسرائیل کو ریڈ کارڈ دکھاؤ" جیسے نعروں پر مشتمل بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔

مضمون میں اس امر کا بھی ذکر کیا گیا کہ فیفا کے صدر کی جانب سے امریکہ کے ایران کے خلاف جنگ میں شامل ہونے سے کچھ ہی قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو علامتی طور پر "امن کا ایوارڈ" دیا گیا، جس پر مصنف نے تنقید کرتے ہوئے اس جنگ کو غیر قانونی اور تاریخی اعتبار سے قابلِ مذمت قرار دیا۔

مصنف نے فلسطینی صحافی دینا الکرد کے حوالے سے لکھا کہ اگرچہ کھیلوں کے مقابلے اکیلے فلسطینی عوام کی مشکلات کا خاتمہ نہیں کر سکتے اور نہ ہی صرف اسٹیڈیم میں فلسطینی پرچم لہرانے سے بے گھر خاندان اپنے گھروں کو واپس حاصل کر سکتے ہیں، تاہم عوامی تحریکیں اسی طرح کے مسلسل اظہار، اجتماعی دباؤ اور عالمی ضمیر میں اس مسئلے کو زندہ رکھنے سے بتدریج مضبوط ہوتی ہیں اور یہ عمل فلسطینی کاز کو فراموش ہونے سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

مضمون کے آخر میں مصر کی قومی فٹبال ٹیم کے ہیڈ کوچ حسام حسن کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جنہیں مصنف نے فلسطینی عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرنے والی کھیلوں کی دنیا کی سب سے جرات مند اور ثابت قدم شخصیات میں سے ایک قرار دیا ہے۔/

 

4364177

نظرات بینندگان
captcha