ایکنا نیوز- المسیرہ نیوز کے مطابق یمن کی انصار اللہ تحریک کے رہنما سید عبدالملک الحوثی نے اپنے آج کے خطاب میں کہا کہ اس وقت دنیا تاریخ کے سب سے بڑے ظالموں، یعنی صہیونی حکومت اور اس کے حامیوں، کا سامنا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے استبدادی عناصر انسانیت کو اپنے شیطانی مقاصد اور خوفناک عزائم کی تکمیل کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی شر اور فساد کا وہ مرکز ہیں جو عالمی امن و استحکام کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
سید عبدالملک الحوثی نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے منصوبوں کا مقصد مختلف قوموں کی دولت لوٹنا، جنگیں بھڑکانا اور فلسطین سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے، اور وہ اپنے ان عزائم سے کبھی دستبردار نہیں ہوئے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ صہیونی منصوبہ ہی ہمارے خطے کی تمام جنگوں کے پیچھے کارفرما ہے، جو "مشرقِ وسطیٰ کی تشکیلِ نو" کے منصوبے کے تحت "اسرائیلِ عظیم" کے قیام کے لیے بنایا گیا ہے۔
انصار اللہ کے رہنما نے کہا کہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی نہ کسی بین الاقوامی معاہدے کا احترام کرتے ہیں اور نہ ہی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی کوئی پروا کرتے ہیں، بلکہ وہ قوموں اور تہذیبوں کی تباہی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں۔
اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں انہوں نے صنعاء ایئرپورٹ پر سعودی عرب کے حالیہ حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یمن کے خلاف سعودی جارحیت کئی برسوں سے جاری ہے، جس کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں، بلکہ یہ امریکہ اور اسرائیل سے وفاداری کے تناظر میں انجام دی جا رہی ہے۔
سید عبدالملک الحوثی نے دشمنوں کی ہائبرڈ جنگ کی حکمتِ عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت نرم اور سخت جنگ کو بیک وقت استعمال کرکے امتِ مسلمہ پر مکمل غلبہ حاصل کرنا اور عالمی استحکام کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ آج عالمِ اسلام تاریخ کے سب سے زیادہ سرکش اور جرائم پیشہ دشمنوں کا سامنا کر رہا ہے، جبکہ بین الاقوامی صہیونیت اسلامی شناخت پر حملے کے لیے فریب اور گمراہی پر مبنی نرم جنگ کو اپنی اولین ترجیح بنائے ہوئے ہے۔
انہوں نے صہیونیت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قوتیں قوموں کو کچلنے، ان کے وسائل لوٹنے اور ان کی سرزمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے بقول، امریکہ اور اسرائیل غزہ اور پورے خطے میں اجتماعی نسل کشی، انسانی حرمتوں کی پامالی اور انسانی زندگی کی تباہی کے بنیادی ذمہ دار ہیں، جبکہ امریکہ، اسرائیل اور ان کے اتحادی عالمی بدامنی، جرائم اور بین الاقوامی استحکام کو خطرے میں ڈالنے کا اصل مرکز ہیں۔
انصار اللہ کے رہنما نے مزید کہا کہ صہیونی حکومت اور اس کے مغربی حامی گزشتہ کئی دہائیوں سے خطے میں تمام فتنوں، جنگوں اور سازشوں کے اصل محرک رہے ہیں، اور صہیونی سازشیں عرب اور اسلامی اقوام کے خلاف ایک دن کے لیے بھی نہیں رکیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکہ، اسرائیل اور صہیونی تحریک خطے میں پھیلنے والی تمام بدامنیوں اور شورشوں کے پسِ پردہ ہیں، اور وہ "مشرقِ وسطیٰ کی تشکیلِ نو" اور "اسرائیلِ عظیم" کے قیام کے منصوبے کے ذریعے امتِ مسلمہ پر مکمل غلبہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
خطاب کے اختتام پر سید عبدالملک الحوثی نے کہا کہ امریکہ اور صہیونی حکومت کسی بھی بین الاقوامی معاہدے، مفاہمت، قانونی ذمہ داری یا اقوام متحدہ کی قراردادوں کی پابندی نہیں کرتے اور نہ ہی ان کا کوئی احترام کرتے ہیں۔
4364422