ایکنا سے تہران میں "آقای شہید ایران" کی مراسمِ وداع کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے محترمہ راغدہ مصری نے کہا کہ شہید رہبر نے علمی نشستوں، کانفرنسوں اور مکالموں کے ذریعے مذہبی اختلافات کم کرنے اور مسلمانوں کے درمیان قربت و ہم آہنگی پیدا کرنے کی بھرپور کوشش کی، جس کے نتیجے میں اسلامی اتحاد کو فروغ ملا اور فرقہ وارانہ خلیج کو کم کرنے میں مدد ملی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر مسئلۂ فلسطین کو امتِ مسلمہ کے اتحاد کا بنیادی محور سمجھتے تھے اور امام خمینیؒ کی فکر سے رہنمائی لیتے ہوئے فلسطین کے مقصد، مظلوم اقوام اور محروم طبقات کی فکری، سیاسی اور عملی حمایت کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا۔
راغدہ مصری نے زور دے کر کہا کہ شہید رہبر کی حمایت صرف شیعہ مسلمانوں تک محدود نہیں تھی بلکہ تمام مسلمانوں، خصوصاً فلسطینی عوام اور ان کے عادلانہ مقصد، کو شامل تھی، اور یہی جامع طرزِ فکر انہیں عالمِ اسلام میں ممتاز مقام عطا کرتا تھا۔
لبنانی استاد نے شہید رہبر کے لیے دعائے مغفرت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اتحادِ امت کے مشن اور افکار کو آگے بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو باہمی اتحاد، یکجہتی اور اخوت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک مضبوط اور باوقار امت کی تشکیل کے لیے مشترکہ جدوجہد کرنی چاہیے۔
انہوں نے شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ سانحہ لبنان کے عوام کے لیے، خصوصاً سید حسن نصر اللہ کی شہادت کے بعد، نہایت دردناک اور بھاری صدمہ ہے۔
راغدہ مصری نے کہا کہ شہید رہبر کی مراسمِ وداع میں شریک افراد اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے، اور ان کی شہادت نے واقعۂ کربلا، حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی اور آپؑ کے وفادار ساتھیوں کی یاد تازہ کر دی۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید رہبر کی شہادت کے بعد معاشرے میں تنہائی اور یتیمی کا احساس بڑھ گیا ہے، اور لبنان کے عوام کے لیے سید حسن نصر اللہ کی رحلت کے بعد یہ احساس مزید گہرا ہو گیا ہے۔
آخر میں انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ شہید رہبر کا راستہ اور ان کی فکری میراث جاری رہے گی اور یہ مشن حضرت آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں آگے بڑھتا رہے گا۔
.
4364251