شهید رھبر عمربھر قرآن کے ہمراہ رہیں

IQNA

یمنی قاری:

شهید رھبر عمربھر قرآن کے ہمراہ رہیں

7:13 - July 19, 2026
خبر کا کوڈ: 3520465
ایکنا: یمنی قرآنی جج محمد حسن علی الکباری نے کہا ہے کہ جو شخص شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی ایران حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے دروس کے منتخب اقتباسات پر غور کرے گا، وہ اس حقیقت کو پا لے گا کہ آپؒ نے اپنی پوری زندگی قرآن کریم کے دامن میں گزاری۔

ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے محمد حسن علی الکباری نے شہید رہبرِ ایران حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی حفظِ قرآن، تلاوتِ قرآن اور آیاتِ الٰہی میں تدبر سے گہری وابستگی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت امام خامنہ ایؒ حقیقتاً شہادت کے لیے جئے اور اپنی پوری زندگی میں لوگوں کے دلوں میں کتابِ خدا سے محبت اور اس کی عظمت کو زندہ رکھا۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے عظیم رہبر، امام خامنہ ایؒ کو شہادت کی عظیم نعمت اور قرآنِ کریم سے والہانہ محبت عطا فرمائی۔ اسی بنا پر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت اور اطاعت پیدا کی اور اپنی اس وعدۂ حق کو سچ کر دکھایا:

"بے شک جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے، عنقریب رحمان ان کے لیے لوگوں کے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا۔" (سورۂ مریم: 96)

محمد حسن علی الکباری نے مزید کہا کہ حضرت امام خامنہ ایؒ کی قرآنِ کریم سے گہری وابستگی ہی وہ سبب تھی جس کی بدولت اللہ تعالیٰ نے انہیں بلند مقام، عزت اور وقار عطا فرمایا۔ جو شخص کتابِ خدا، یعنی قرآنِ کریم کی تعظیم کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے مرتبے اور انجام کو بلند کر دیتا ہے۔

یمنی قاری نے مزید کہا کہ جو بھی حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام خامنہ ایؒ کے دروس کے منتخب حصوں، ان کی تحریروں، ذرائع ابلاغ میں نشر ہونے والے بیانات اور قرآنِ کریم کی متعدد آیات کی ان کی تفاسیر کا مطالعہ کرے، خواہ وہ ان کی جوانی کے زمانے سے ہوں یا دورِ قیادت سے، وہ اس حقیقت کو ضرور سمجھے گا کہ ہمارے شہید رہبر بخوبی جانتے تھے کہ کتابِ خدا میں غور و فکر اور تدبر کی لذت، دنیا ہی کی جنت اور اہلِ ایمان کے دلوں کی حقیقی مسرت ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قاریانِ قرآن کی تکریمی تقریبات میں حضرت امام خامنہ ایؒ کی شرکت، حاضرین کے لیے باعثِ افتخار اور ان کے سروں کا تاج تھی۔ وہ ایک ایسی رہنمائی تھے جو ہمیں ہمیشہ یہ یاد دلاتی ہے کہ امت کی حقیقی طاقت کتابِ خدا اور ایسے با بصیرت قائدین میں پوشیدہ ہوتی ہے جو ایثار اور قربانی کے راستے پر گامزن رہتے ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ ہمیں یہ سعادت حاصل ہوئی کہ ہم ان کی عظمت کو قریب سے محسوس کر سکے، اور جب ہم نے ان کے پاکیزہ جسدِ خاکی کو الوداع کہا تو ایسا محسوس ہوا جیسے ہم اپنے پورے وجود کے ساتھ ان سے رخصت ہو رہے ہوں۔ وہ ایک سعادت مند شہید کی حیثیت سے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، اور اس آخری ملاقات کی یاد ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہے گی۔/

 

4364149

نظرات بینندگان
captcha