ایکنا نیوز- یافا نیوز کے مطابق یہ قافلہ بوسنیا و ہرزیگووینا پہنچنے کے بعد سربرینیتسا شہر اور پوتوچاری کی یادگاری قبرگاہ گیا، جہاں شرکاء نے 1995ء میں اس شہر میں ہونے والی نسل کشی کے شہداء کی ارواح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعا اور مناجات کی۔
اس اجتماع کے شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں جاری نسل کشی کی شدید مذمت کی۔
ترکی کے وفد کے کوآرڈینیٹر حسین دورماز نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ تاریخ میں رونما ہونے والے انسانیت سوز جرائم کو کبھی فراموش نہیں کیا جانا چاہیے، صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ اس قافلے کا بنیادی مقصد غزہ میں جاری نسل کشی کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس سفر میں 500 سے زائد سماجی کارکن شریک ہوں گے۔ اس قافلے کا منصوبہ ہے کہ وہ ترکی، عراق اور اردن کے راستے فلسطین پہنچے۔
یہ قافلہ بوسنیا سے روانہ ہو کر ترکی کے مختلف صوبوں سے گزرتے ہوئے اس ملک میں داخل ہوگا، پھر عراق اور اس کے بعد اردن کا رخ کرے گا اور آخرکار فلسطین پہنچے گا۔ دس یورپی ممالک کے کارکنوں کی شرکت سے ہونے والا یہ سفر تقریباً 20 روز پر محیط ہوگا۔
سربرینیتسا کا قتلِ عام دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں پیش آنے والا بدترین قتلِ عام اور نسل کشی کا واقعہ تصور کیا جاتا ہے۔/
4367383