اربعین میں قرآنی مواکب کی سرگرمیاں؛ عوامی نظم و نسق اور عشقِ حسینی کا حسین امتزاج

IQNA

اربعین میں قرآنی مواکب کی سرگرمیاں؛ عوامی نظم و نسق اور عشقِ حسینی کا حسین امتزاج

7:24 - August 02, 2026
خبر کا کوڈ: 3520528
1
ایکنا: سیدہ مریم موسوی زادہ کے مطابق عوامی قرآنی اداروں کی فعال شراکت اور منظم منصوبہ بندی نے ایسی خدمات کی فراہمی کو ممکن بنایا ہے جو نہ صرف زائرین کی ضروریات پوری کرتی ہیں بلکہ ان کی دینی، ثقافتی اور روحانی احتیاجات کا بھی مؤثر جواب فراہم کرتی ہیں۔

ایکنا نیوز- اربعینِ حسینی کی عظیم الشان پیادہ روی، جو عالمِ اسلام کا سب سے بڑا عوامی اجتماع سمجھی جاتی ہے، ہر سال حضرت امام حسینؑ کے زائرین کے لیے باہمی اخوت، ایثار اور عاشقانہ خدمت کی بے مثال تصویر پیش کرتی ہے۔ اس تناظر میں صوبہ خوزستان، عراق جانے والے زائرین کے اہم داخلی راستوں میں شامل ہونے کے باعث، لاکھوں محبانِ اہلِ بیتؑ کی میزبانی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

رفاہی خدمات کے ساتھ ساتھ قرآنی مواکب بھی عوامی قرآنی اداروں کی صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے اس کوشش میں مصروف ہیں کہ اربعین کے سفر کو قرآن کریم اور معارفِ اہلِ بیتؑ کے فروغ کا مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔

ملکی اتحاد برائے قرآنی و عترت ادارہ جات کی نائب صدر اور خوزستان یونین برائے مؤسساتِ قرآن و عترت کی سربراہ سیدہ مریم موسوی زادہ نے ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے ان مواکب کی سرگرمیوں، حکمتِ عملی اور مستقبل کے اہداف پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ اربعین صرف ایک عظیم عوامی اجتماع نہیں بلکہ قرآن کریم اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کو عام کرنے کا ایک نادر موقع بھی ہے۔ اسی مقصد کے تحت کوشش کی گئی ہے کہ رفاہی خدمات کے ساتھ ساتھ قرآنی اور ثقافتی سرگرمیوں کو بھی خصوصی اہمیت دی جائے۔

روایت خدمت قرآنی در شلمچه؛ وقتی مدیریت مردمی با عشق حسینی گره می‌خورد

 

انہوں نے مزید بتایا کہ اس سال زیادہ مؤثر منصوبہ بندی اور مربوط انتظام کے ذریعے قرآنی مواکب کی سرگرمیوں کو پہلے سے زیادہ منظم اور ہدفمند بنایا گیا ہے، تاکہ زائرین عمومی سہولیات کے ساتھ ایک روح پرور اور قرآنی ماحول سے بھی مستفید ہو سکیں۔

موسوی زادہ نے سرحدی مقام شلمچہ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عراق جانے والے بہت سے زائرین کے لیے شلمچہ اس روحانی سفر کا پہلا پڑاؤ ہے، اس لیے مناسب ہے کہ ان کے سفر کا آغاز قرآن کی خوشبو اور نور سے ہو۔

انہوں نے خرمشہر کے قرآنی موکب "نور الہادی" کو اس عملی نمونے کی کامیاب مثال قرار دیا۔

روایت خدمت قرآنی در شلمچه؛ وقتی مدیریت مردمی با عشق حسینی گره می‌خورد

 

انہوں نے کہا کہ آج اربعین کے پیدل سفر کے راستے، خصوصاً سرحد شلمچہ پر جو منظر دکھائی دیتا ہے، وہ صرف زائرین کی معمول کی خدمت تک محدود نہیں بلکہ دانشمندانہ انتظام، عوامی شراکت اور قرآنی سرگرمیوں کا ایک کامیاب نمونہ ہے۔ یہ تجربہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جب سائنسی و منظم انتظام، ثقافتی فکر اور قرآنی تعلیمات ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں تو زائرین کی خدمت محض ایک انتظامی ذمہ داری نہیں رہتی بلکہ ایک دائمی عبادت اور دیرپا ثقافتی خدمت کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔/

 

4367301

نظرات بینندگان
captcha