ایکنا نیوز- آؤٹ لک انڈیا کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہر سال لاکھوں زائرین عراق کے جنوبی صحراؤں سے مقدس شہر کربلا تک پیدل سفر کرتے ہیں تاکہ دنیا کے سب سے بڑے سالانہ اجتماعات میں شمار ہونے والی اربعین کی زیارت میں شرکت کر سکیں۔ رواں سال زائرین 4 اگست کو کربلا میں جمع ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق، اربعین عاشورا کے چالیس روز بعد منائی جاتی ہے، جس دن شیعہ مسلمان حضرت امام حسینؑ، نواسۂ رسول اکرم ﷺ، کی شہادت کی یاد مناتے ہیں۔
بھارتی میڈیا نے لکھا کہ شاید ہی کوئی مذہبی رسم اربعین کی طرح تشیع کے مختلف پہلوؤں کو اس جامع انداز میں نمایاں کرتی ہو، جس میں ایثار، شہادت، ظلم کے خلاف مزاحمت اور لاکھوں انسانوں کو ایک مقصد پر جمع کرنے کی غیر معمولی صلاحیت شامل ہے۔
رپورٹ میں بیان کیا گیا ہے کہ 680ء میں حضرت امام حسینؑ اپنے اہلِ خانہ اور چند وفادار ساتھیوں کے ہمراہ عراق روانہ ہوئے، لیکن کربلا کے قریب انہیں ایک بڑے لشکر نے گھیر لیا اور آپؑ اپنے تقریباً 70 جانثار ساتھیوں سمیت شہید کر دیے گئے، جبکہ قافلے کی خواتین اور بچوں کو قیدی بنا کر دمشق، جو اس وقت اموی حکومت کا دارالحکومت تھا، منتقل کر دیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق، شیعہ مسلمانوں کے نزدیک یہ واقعہ محض ایک سیاسی شکست نہیں بلکہ دینِ حق کی حفاظت کے لیے عظیم قربانی کی علامت ہے۔ حضرت امام حسینؑ نے ایک ایسی حکومت کے خلاف قیام کیا جسے وہ ظالمانہ اور اسلامی تعلیمات کے منافی سمجھتے تھے۔
امام حسینؑ کی شہادت کی یاد شیعہ مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ اور اہلِ بیتؑ کی تعلیمات کی یاد دلاتی ہے اور یہ واقعہ حق و باطل کے درمیان دائمی جدوجہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔
نجف سے کربلا تک عشق کا سفر
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آج اربعین کا سب سے معروف پیدل راستہ نجف، جہاں حضرت امام علیؑ کا روضہ مبارک واقع ہے، سے کربلا تک تقریباً 78 کلومیٹر پر مشتمل ہے، جسے زائرین عموماً تین دن میں طے کرتے ہیں۔
اس پورے راستے میں ہزاروں مواکب قائم ہوتے ہیں، جہاں رضاکار زائرین کو بلا معاوضہ کھانا، چائے، طبی سہولیات اور آرام کی جگہ فراہم کرتے ہیں۔
شیعہ مطالعات کے محقق سید اکبر حیدر کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے: "میں ایامِ اربعین میں کربلا گیا تھا۔ میرے لیے یہ انتہائی حیرت انگیز تجربہ تھا کہ ایک ایسا ملک، جو کئی دہائیوں سے جنگ اور عدم استحکام کا شکار رہا، ایک ہفتے تک لاکھوں افراد کی مفت کھانے اور مشروبات سے مہمان نوازی کرتا ہے۔ اس تجربے نے ثابت کیا کہ امام حسینؑ کی قربانی کی داستان آج بھی انتہائی مشکل حالات میں بے مثال ایثار اور مہمان نوازی کی تحریک فراہم کرتی ہے۔"
رپورٹ کے مطابق، حالیہ برسوں میں اربعین کے شرکاء کی تعداد دو کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، اور اسے دنیا کا سب سے بڑا سالانہ اجتماع قرار دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں انیسویں صدی کے ممتاز بھارتی شیعہ شاعر میر انیس کی شہرۂ آفاق رزمیہ نظم "جنگِ کربلا" کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا ہے کہ ہر سال اربعین کے موقع پر کربلا آنے والے لاکھوں زائرین کے لیے اس عظیم اجتماع کا پیغام ماضی اور حال دونوں سے جڑا ہوا ہے۔ یہ اس عظیم شہید کے مزار کی جانب سفر ہے جس نے چودہ صدیاں قبل حق کی خاطر جان قربان کی، اور اس حقیقت کی یاد دہانی بھی کہ ظلم اور ناانصافی کے خلاف ان کی استقامت آج بھی پوری انسانیت کے لیے امید، حوصلے اور عدل کا روشن پیغام ہے۔/
4367571