ایکنا نیوز- ممتاز استاد اور قاریِ قرآن نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اربعین حسینی کی عظیم صلاحیت کو صرف محافلِ تلاوت کے انعقاد تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قرآنی قاریوں کو تفسیر، تدبر اور قرآنی مبانی کی معرفت سے استفادہ کرتے ہوئے عاشورا کا پیغام عالمی سامعین تک پہنچانا چاہیے، کیونکہ آج دنیا کو پہلے سے کہیں زیادہ قرآن کے اس منطق کو سننے کی ضرورت ہے جو حق، عدل کے دفاع اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی دعوت دیتا ہے۔
اربعین حسینی کی ریلی گزشتہ برسوں کے دوران دنیا کے سب سے بڑے مذہبی اجتماعات میں شامل ہوگئی ہے اور اپنے روحانی پہلوؤں کے علاوہ قرآن اور اہل بیتؑ کی تعلیمات کو اجاگر کرنے کے لیے ایک بے مثال موقع بھی فراہم کرتی ہے۔
قرآن کریم کے ممتاز استاد اور داور محمد کاظمی نے ایکنا سے گفتگو کرتے ہوئے اربعین کے اس عظیم اجتماع میں قرآنی معاشرے کی ذمہ داریوں کی طرف اشارہ کیا اور اربعین کی قرآنی سرگرمیوں کو صرف رسمی و روایتی پروگراموں تک محدود رکھنے کے بجائے تحریکِ عاشورا کے قرآنی مبانی اور اصولوں کو واضح کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
قاری کو «قرآن کی زبان» بننا چاہیے
قرآن کریم کے اس استاد نے اربعین میں قرآنی سرگرمیوں کو صرف محافلِ تلاوت تک محدود کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے کہا:
«قرآن کی تلاوت ایک نہایت اہم اور ناقابلِ انکار مقام رکھتی ہے، لیکن قرآن کے قاری کی ذمہ داری صرف اللہ کی آیات پڑھنا نہیں ہے۔ قاری کو ’قرآن کی زبان‘ بننا چاہیے؛ یعنی وہ قرآن کے مفاہیم، اصول اور منطق کو سامعین کے سامنے بیان کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔»
انہوں نے مزید کہا کہ آج مختلف ممالک سے لاکھوں زائرین اربعین کے راستے میں موجود ہوتے ہیں۔ یہ اجتماع مختلف اقوام کے ساتھ قرآنی مکالمے کا ایک بے مثال موقع ہے۔ ہمارے بین الاقوامی قاریوں کو اعلیٰ معیار کی تلاوت پیش کرنے کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں امام حسینؑ کے قیام کی حکمت، مزاحمت کی منطق، عدل پسندی، ظلم کے خلاف جدوجہد اور انسانی کرامت کے دفاع کو بھی سامعین کے سامنے واضح کرنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ قرآن کریم جہاد، مستکبرین کے مقابلے، ثقافتی تعلقات، سفارت کاری، مظلوموں کے دفاع اور بہت سے سماجی و سیاسی مسائل کے بارے میں ایک واضح منطق پیش کرتا ہے۔ بالخصوص سورۂ توبہ اور سورۂ انفال میں ان مفاہیم کو اچھی طرح بیان کیا گیا ہے، تاہم افسوس کہ اربعین کے قرآنی پروگراموں میں اس عظیم ظرفیت کا ایک بڑا حصہ نظرانداز ہوجاتا ہے۔
قرآن کریم کے اس ممتاز داور نے قاریوں کے علمی معیار کو بلند کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس مقام تک پہنچنا صرف صوت اور لحن کو بہتر بنانے سے ممکن نہیں۔ قاری کو قرآن کی تفسیر، آیات میں تدبر اور حفظِ قرآن سے گہرا تعلق رکھنا چاہیے تاکہ وہ تلاوت کے ساتھ ساتھ اللہ کا پیغام بھی دوسروں تک پہنچا سکے۔
اربعین؛ قرآن کی تعلیمات پیش کرنے کا بہترین موقع

کاظمی نے قرآنی معارف کی منتقلی کے لیے اربعین کی بے مثال صلاحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
اس عظیم اجتماع میں مختلف ذوق، ثقافتوں اور قومیتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ امام حسینؑ کی محبت کے محور پر جمع ہوتے ہیں۔ یہی خصوصیت اربعین کو قرآن کریم کی تعلیمات اور معارف پیش کرنے کے لیے بہترین موقع میں تبدیل کرتی ہے۔/
4368130