ایکنا: مفتی اعظم شیخ جہاد خلیل نے مدینہ منورہ میں شاہ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس کا دورہ کیا اور اس ادارے کی قرآنی خدمات کو سراہا۔
ایکنا نیوز- عکاظ کے حوالے سے رپورٹ دی گئی ہے کہ شیخ جہاد خلیل، جو وزارتِ تعلیم و مذہبی امور کے دینی مشیر اور یونان کے سابق مفتی اعظم ہیں، نے مدینہ منورہ میں شاہ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس کے دورے کے دوران تقریباً دو دہائیاں قبل مدینہ منورہ میں اپنے قیام کی یادیں تازہ کیں۔
شیخ جہاد خلیل کا یہ دورہ خادمین حرمین شریفین کے مہمانوں کے لیے عمرہ اور حج کے سلسلے میں سعودی وزارتِ اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی جانب سے منعقد کیے جانے والے ثقافتی پروگرام کا حصہ تھا۔ انہوں نے قرآن پرنٹنگ کمپلیکس کے مختلف شعبوں کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے اپنی تعلیمی زندگی کا ایک حصہ گزارا تھا۔ انہوں نے اس مقام پر قرآن کریم کے یونانی ترجمے کی نظرثانی کے برسوں کی یادیں تازہ کرتے ہوئے اس دور کو اپنی علمی زندگی کے اہم ترین مراحل میں سے ایک قرار دیا۔
نمایاں علمی یادیں
شیخ جہاد نے بتایا کہ قرآن کریم کے یونانی ترجمے کی نظرثانی میں ان کی شرکت دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہی۔ یہ عرصہ شاہ سعود اسلامی یونیورسٹی میں ان کی ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ جاری رہا، جبکہ اس سے قبل وہ مدینہ منورہ کی اسلامی یونیورسٹی سے گریجویشن مکمل کر چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ دور ان کی زندگی کی نمایاں علمی یادوں سے عبارت تھا۔ اس دوران وہ ترجمے کے ہر صفحے اور ہر آیت کا نہایت احتیاط سے جائزہ لیتے اور ترجمے کی اشاعت کی منظوری دینے سے قبل معنی کی صحت اور تفسیر کی درستگی کو یقینی بناتے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شاہ فہد قرآن پرنٹنگ کمپلیکس کی جانب سے شائع کیا جانے والا قرآن کریم کا یونانی ترجمہ یونان میں مسلمانوں اور محققین کے درمیان وسیع اعتماد اور اعتبار رکھتا ہے۔ علمی دقت اور مضبوط تحقیقی طریقۂ کار کے باعث یہ ترجمہ محققین، مبلغین اور جامعات کے لیے ایک قیمتی علمی ماخذ بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترجمے کے مقدمے میں آج بھی ان کا نام درج ہے، جسے وہ اپنے لیے ایک علمی اعزاز سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس ترجمے کا اثر صرف اسلامی اداروں اور مراکز تک محدود نہیں رہا بلکہ علمی اور جامعاتی حلقوں تک بھی پھیل گیا ہے۔ ان کے مطابق ارسطو یونیورسٹی آف تھیسالونیکی میں قرآنی علوم اور تفسیر کی تدریس کے دوران بھی اس ترجمے سے استفادہ کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یونانی زبان بولنے والے مسلمان اور غیر مسلم افراد بھی قرآن کریم سیکھنے کے لیے اسے ایک معتبر ماخذ کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
شیخ جہاد خلیل نے ۲۰۰۳ء میں ترجمے کی نظرثانی کا عمل مکمل کرنے کے بعد مدینہ منورہ سے روانگی کے واقعات کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دورے نے ان کے لیے خیر و برکت سے بھرپور برسوں کی یادیں تازہ کر دیں اور انہیں اس مقام سے اپنا تعلق دوبارہ محسوس کرنے کا موقع دیا، جو ان کی علمی زندگی کے اہم ترین مراحل میں سے ایک کا گواہ رہا ہے۔
آخر میں شیخ جہاد خلیل نے مدینہ منورہ کے قرآن پرنٹنگ کمپلیکس کے لیے اپنی گہری تشکر اور قدردانی کا اظہار کیا۔ یہ ادارہ قرآن کریم کی طباعت، ترجمے اور ۸۰ سے زائد زبانوں میں اشاعت کی اپنی ذمہ داری مسلسل انجام دے رہا ہے۔/
4369182