بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ

IQNA

7:10 - August 15, 2026
خبر کا کوڈ: 3520583

بھارت میں مسلمانوں کے خلاف تشدد میں اضافہ

ایکنا: انسانی حقوق کی رپورٹ میں جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں مسلمان ۲۰۲۶ کے دوران پرتشدد کارروائیوں کے اندراج کے حوالے سے بدترین دور سے گزر رہے ہیں۔

1

ایکنا نیوز-اخبار الشیعہ نیوز کے مطابق حال ہی میں جاری ہونے والی انسانی حقوق کی ایک رپورٹ نے ۲۰۲۶ میں بھارتی مسلمانوں کے خلاف تشدد اور بدسلوکی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سال ۲۰۲۲ میں اعداد و شمار کے ریکارڈ کیے جانے کے آغاز کے بعد سب سے زیادہ ہلاکت خیز سال ثابت ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں درجنوں ہلاکتوں، ہزاروں گرفتاریوں اور گھروں، عمارتوں اور مذہبی مقامات کی مسماری کے واقعات کا ذکر کیا گیا ہے۔

Torture Tracker India کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال کے آغاز سے اب تک کم از کم ۴۴ مسلمان قتل ہو چکے ہیں۔ ان میں سے ۱۹ افراد ایسے واقعات میں ہلاک ہوئے جن کی ذمہ داری سرکاری فورسز اور اداروں پر عائد کی گئی، جبکہ مزید ۲۵ افراد مذہبی تعصب پر مبنی ہجوم کے حملوں میں مارے گئے، جنہیں ہندو انتہا پسندوں سے منسوب کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف مئی سے جولائی کے دوران ۲۵ مسلمان قتل ہوئے، جن میں ۱۵ افراد پولیس یا سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں، جبکہ ۱۰ افراد ہندو انتہا پسند گروہوں سے منسوب حملوں میں مارے گئے۔ ہلاک ہونے والوں میں ایک ۱۱ سالہ بچی اور ۱۶ سالہ لڑکا بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ خلاف ورزیوں کا دائرہ قتل تک محدود نہیں بلکہ اجتماعی گرفتاریوں، حراست کے دوران ہلاکتوں، گھروں، مساجد اور مذہبی مقامات کی مسماری، بے دخلی اور جبری نقل مکانی تک پھیلا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ کارروائیاں خاص طور پر اتر پردیش، آسام، کشمیر اور مغربی بنگال میں زیادہ دیکھی گئی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق، کم از کم ۲۱ الگ الگ واقعات میں آٹھ ریاستوں کے اندر ایک ہزار سے زائد گھروں، کاروباری مراکز اور اسلامی مذہبی عمارتوں کو مسمار کیا گیا ہے۔ دو ماہ سے بھی کم عرصے میں چھ ریاستوں میں کم از کم ۲۳ اسلامی مذہبی عمارتیں منہدم کی گئیں، جس کے بعد ۲۰۲۶ کے آغاز سے اب تک مسلمانوں کے مسمار کیے گئے گھروں، دکانوں اور مذہبی مقامات کی مجموعی تعداد ۳۰۰۰ سے تجاوز کر گئی ہے۔

کشمیر کے حوالے سے رپورٹ میں جولائی میں ایک مسلح حملے کے بعد ۴۸ گھنٹوں کے اندر ۲۵۰۰ سے زائد افراد کی گرفتاری اور دو خاندانوں کے گھروں کو دھماکا خیز مواد کے ذریعے مسمار کیے جانے کے واقعات بھی دستاویزی شکل میں پیش کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں متعدد ریاستوں میں طلبہ کے احتجاج کے دوران مسلمانوں کی مخصوص اور ہدفی گرفتاریوں کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔

رپورٹ میں سماجی بہبود کے پروگراموں، شہریت کی تصدیق کے طریقہ کار اور کوٹہ سسٹم میں ہونے والی تبدیلیوں پر بھی تنقید کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ اقلیتوں اور اسلامی مدارس کے لیے مختص بجٹ میں کمی کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایک ریاست میں ۷۷ مسلم برادریوں کو کوٹہ سسٹم سے خارج کر دیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مصنفین نے خبردار کیا کہ ان حالات کا تسلسل قانون سے بالاتر ہونے کے احساس کو مزید تقویت دے سکتا ہے، خاص طور پر ان معاملات میں جہاں پولیس افسران یا بااثر سیاسی شخصیات پر بدسلوکی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ان کے شہری، مذہبی اور قانونی حقوق کے احترام کا مطالبہ کیا ہے۔/

 

4369593

نظرات بینندگان
captcha