بين الاقوامی گروپ:ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے راﺋٹر نيوز سے نقل كيا ہے كہ سولہویں پاپ بنديكیٹ جو آج كل جرمنی كے سفر پر ہیں انہوں نے رگين بورگ يونيورسٹی میں خطاب كرتے ہوۓ كہاكه مسيحيت كا عقل سے مستحكم رابطہ ہے جبكہ اسلام كی كوشش رہی ہے كہ ايمان كو تلوار كے ذريعہ عام كيا جاۓ-
انہوں نے جہاد اسلامی پر اعتراض كرتے ہوۓ اسے غير عقلی اور روح انسانيت كے خلاف قرار ديا اور اپنے خطاب كے آخر پر كہا كہ ہم اپنے حريفوں كو مختلف ثقافتوں كے مابين مذاكرات اور بات چيت كی دعوت ديتے ہیں
پاپ پر یہ حقيقت عياں ہے كہ اسلام نے ہميشہ انتہا پسند گروہوں سے براﺋت كی ہے اور انہیں اسلام كا دشمن سمجھا ہے اور اس بات كا بھی انہیں علم ہےكه جہاد كا مفہوم شدت پسندی اور انتہا پسندی سے جدا ہے .
جناب پاپ اس بات سے غافل ہیں كہ اگر مسلمان بھی چاہیں تو بعض انتہا پسند مسيحی گروہوں كے شدت پسندانہ نظريات كو سامنے ركھ كر انہیں تمام مسيحيت كی نماﺋندگی كا درجہ دے سكتے ہیں اگر ايسا كيا جاۓ تو پھر مذاكرات كا دروازہ بالكل بند ہوجاۓ گا-لہذا جب تك مسيحيت اور اس كے كچھ انگشت شمار لیڈر اپنی ثقافت كی عالمی برتری كے نعروں سے ہاتھ نہیں اٹھاتے اس وقت تك گفتگو كا اچھا ماحول ميسر نہیں ہوسكتا-
ہمارا مشورہ یہ ہے كہ پاپ كو چاہیے كہ اسلام كے بنيادی اصولوں اور اسلام كی صحيح تاريخ كا گہرا مطالعہ كریں تاكہ ان عاميانہ اور سطحی نظريات كو اسلامی اصولوں سے تعبير نہ كياجائے-