ملك میں قرانی مفاہيم كی تعليم میں بنيادی تبديلی كی ضرورت ۔

IQNA

ملك میں قرانی مفاہيم كی تعليم میں بنيادی تبديلی كی ضرورت ۔

12:15 - September 14, 2006
خبر کا کوڈ: 1497022
قرآنی سرگرمياں گروپ: ملك میں قرآنی مطالب كی تعليم میں بنيادی تبديلی اور اساسی رد وبدل كی ضرورت ہے ۔
حجۃ الاسلام سيد محمد علی ايازی جو قرآنی علوم كے محقق اور استاد ہیں انہوں نے ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی كو ايك انٹرويو میں كہا كہ مجھے افسوس ہے كہ ايران میں جتنا اہتمام حفظ قرآن كی تعليم اور تجويد و قراﺋت كے لیے ہوتا ہے اتنا مطالب قرآن كی بابت نہیں ہوتا-
انہوں نے كہا كہ مفاہيم قرآن كی تعليم كے سلسلے میں ملك میں ايك بنيادی تبديلی كی ضرورت ہے كيونكہ مطالب قران كی تعليم كو اپنے كلاسيك اور قديمی انداز سے نكال كر عصری تقاضوں كے مطابق ڈھالنے كی اشد ضرورت ہے اور مطالب قران كی كلاسیں بھی قراﺋت اور حفظ كی كلاسوں كی طرح پريكٹيكل ہونی چاہیں اور ان كلاسوں میں بھی جديد تعليمی سہوليات جيسے فلم ،فوٹو،سی ڈی ، وغيرہ سے استفادہ كرنا چاہیے
انہوں نے يونيورسٹيوں كو مختلف مفاہيم كی تعليم میں دوسروں سے بہتر ذكر كيا اور كہا كہ يونيورسٹيوں میں چونكہ نۓ طرز تعليم سے استفادہ كيا جاتا ہے اور اساتذہ بھی تجربہ كار ہوتے ہیں لہذا وہاں تعليمی معيار بلند ہوتاہے. اگرچہ يونيورسٹيوں میں بھی راﺋج تعليمی نظام میں اصلاح كی ضرورت ہے –
انہوں نے آخر میں كہا كہ قرآنی مفاہيم كی تعليم پر منعقدہ كلاسوں كو معاشرے میں عام ہونا چاہیے اور ان كلاسوں كو تعليمی معيار كے مطابق ترتيب دينے كی ضرورت پر زور ديتے هوئےكهاكه مفاہيم كو عام فہم اور سليس انداز میں لوگوں تك پہنچايا جائے۔
نظرات بینندگان
captcha