ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كے مطابق آيت اللہ طالقانی نے اپنی تفسير جلوہ قرآن میں فقہی ،فلسفی، عرفانی ،ادبی ،اور علمی روشوں سے استفادہ كيا ہے.
آيت اللہ طالقانی جب جيل میں تھے تو آپ نے زرزگاموف كی لكھی ہوئ تفسير سورہ نبا كا مطالعہ كيا تو فرمايا كہ اس كتاب كے مطالعہ كے بعد قرآن ميرے لیے مزيد واضح ہوگيا-اس كتاب میں سورج كے متعلق بتايا گيا كہ سورج وہ ہے جس كی طرف سينٹر سے شدت كے ساتھ مختلف گيسیں پھينكی جاتی ہیں-
اور قرآن بھی كہہ رہا ہے كہ ٫٫وجعلنا سراجا وھاجا،،-وھاج- مبالغہ كا صيغہ ہے جو سينٹر سے زيادہ پھينكی جانے والی گيسوں كو بيان كر رہا ہے –وھاج كے علاوہ كوئ اور كلمہ نہیں ہے جو اس مفہوم كو ادا كرسكے-