ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) اور ریڈيو تہران كے مطابق لندن میں ہونے والے گروپ پانچ جمع ايك كے اجلاس میں ايران كے ایٹمی معاملے كے سفارتی حل پر زورديا گيا ہے ۔برطانوی وزير خارجہ مارگارت بگت نے ايران كے ساتھ ہونے والے مذاكراتی عمل كا جائزہ ليتے ہوئے كہا كہ گروپ پانچ جمع ايك كے وزرائے خارجہ كے اجلاس میں ايران كے پرامن ایٹمی معاملے كے بارے میں كوئی اہم فيصلہ نہیں كيا گيا ہے ۔
يورپی يونين كی خارجہ پاليسی كے ڈائريكٹر خاوير سولانا نے بھی لندن اجلاس میں شركت كی اور اس اجلاس میں اپنی رپورٹ پيش كی ۔
لندن اجلاس میں سولانا اورگروپ پانچ جمع ايك كے نمائندوں نے ايران كی جانب سے يورينيم كی افزودگی نہ روكے جانے كے سوال پر مذاكرات سے لے كر پابنديوں تك كے بارے میں الگ الگ اور حتی متضاد نظريات پيش كئے ۔
روس اور چين نے اس بحران سے نكلنے كا موثر ترين راستہ مذاكرات جاری رہنے كو قرارديا جبكہ امريكہ اور برطانیہ نے اپنے سخت موقف پراصرار كرتے ہوئے اقتصادی پابندياں لگائے جانے كا مطالبہ كيا ۔دریں اثنا فرانس اور جرمنی نے بھی ايران كےایٹمی معاملے كا حل ڈھونڈنے كے لئے مزيد مذاكرات كا مطالبہ كيا ۔
واضح رہے كہ اسلامی جمہوریۂ ايران ایٹمی توانائی اور غير فوجی تحقيقاتی مقاصد كے لئے يورينيم كی افزودگی كو اپنا مسلم حق جانتا ہے ۔