انہوں نے كہا: كہ قرآن مجيد كے چھوٹے سوروں كے علاوہ جو ايك معانی اور مفہوم كوبيان كرتے ہیں-
اگر قرآن كے بڑے سوروں پر نظر كی جاۓ تو اس میں مختلف مفاہيم كو بيان كيا گيا ہے اور سورہ كی ابتدا سے لے كر انتہا تك كسی مطلب كا تكرار نہیں ہوا-
مثال كے طور پر اگر ہم حضرت موسی ۜ كا قصہ پڑھنا چاہیں تو قرآن میں ۳۰ جگہ رجوع كریں-
اس طرح حافظ كے اشعار كا اگر جاﺋزہ ليا جاۓ تو اندازہ ہوتا ہے كہ اس كے ہر بيت میں ايك مستقل معنی پايا جاتا ہے-
اور مطالب كو بيان كرنے میں شعر گويی كا طريقہ آيات قرآنی پر منطبق ہوتا ہے -