ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق اس كتاب كے مقدمہ میں آيا ہے كہ گذشتہ دور میں ذرايع ابلاغ اس طرح نہیں تھے جيسا كہ عصر حاضر میں ہیں لہذا لوگ صرف ايك ہی مجتہد كی راۓ سے آشنا ہوتے تھے اور اس طرح مجتہدين بھی ايك دوسرے كی راۓ سے دقيق اور سريع باخبر نہیں ہوسكتے تھے ليكن آج كے ترقی يافتہ دور میں جب ارتباطات اپنے عروج پر ہیں سب لوگ مجتہدين كی آراء سے بآسانی آگاہ ہوسكتے ہیں یہی چيز سبب بنی ہے كہ مجتہدين كے علمی فاصلے كم ہوجاﺋیں اور اعلم مجتہد كی شناخت كا مسألہ مشكل ہوجاۓ-
دوسری طرف سے اعلم مجتہدين كا متعدد ہونا اور انكے فتاوی میں اختلاف بعض ثقافتی مشكلات اور مذھبی اعتراضات كو جنم ديتا ہے-
اس كتاب كے تين حصوں میں فتوی كے صادر ہونے میں مشورہ كا كردار –اجتہاد اور تقليد كے دلاﺋل اور انكا شوری كے فتوی اور اختلاف فتوی سے تعلق كو بيان كيا گيا ہے –
یہ كتاب ۱۴۰۰ كی تعداد میں علوم اور اسلامی ثقافت پبليشرز كی طرف سے شايع كی گئی ہے