ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نےبی بی سی اردو سے نقل كيا ہے كہ عدالت نے انہیں یہ سزا 1982 میں شيعہ اكثريتی علاقے دجيل میں 148 افراد كی ہلاكت میں ان كے كردار پر سنائی ہے۔
صدام كے بھائی برزان تكريتی اور مقدمے كے ايك اور ملزم سابق جج ايواد حامد البندير كو سزائے موت كا حكم ديا گيا ہے جبكہ نائب صدر طحٰہ ياسين رمضان كو عمر قيد اور بعث پارٹی كے تين عہدے داروں كو پندرہ پندرہ سال قيد كی سزا سنائی گئی ہے۔
عدالت نے مقدمے كے ايك ملزم محمد آزاوی علی كو ناكافی شہادتوں كی بناء پر رہا كرنے كا حكم ديا ہے۔ رہا ہونے والے آزاوی علی دجيل میں سابق حكمران پارٹی بعث پارٹی كے ايك عہدے دار تھے۔
عدالت میں جج كے فيصلہ سناتے ہی صدام حسين نے چيخ كر كہا كہ ’اللہ اكبر‘ (خدا عظيم ہے) اور ’عراق زندہ باد، عراقی عوام زندہ باد‘، غدار مردہ باد۔
نامہ نگار كا كہنا ہے كہ جيسے ہی فيصلہ سنايا گيا سابق رہنما شديد صدمے كی كيفيت میں نظر آئے۔ تاہم بی بی سی كے ورلڈ افيئر ایڈیٹر جان سمپسن كا كہنا ہے كہ فيصلے كے بعد عدالت سے باہر نكلتے ہوئے صدام كے چہرے پر ہلكی سی مسكراہٹ تھی۔ نامہ نگار كا كہنا ہے كہ’یہ ايسا ہی ہے كہ جيسے وہ سوچ رہے ہوں كہ میں یہاں آكر جو كرنا چاہتا تھا وہ میں نے كر ليا‘۔
صدام كو جب عدالت میں بلايا گيا تو انہوں نے گہرے رنگ كا سوٹ جبكہ سفيد قميص پہنی ہوئی تھی اور وہ قرآن اٹھائے عدالت میں داخل ہوئے اور اپنی مقررہ نشت پر آ كر بیٹھ گئے۔
جج عبدالرحمن نے صدام حسين كو فيصلہ سنانے سے قبل اپنی جگہ پر كھڑے ہونے كا حكم ديا ليكن صدام نے ان كا یہ حكم ماننے سے انكار كر ديا مگر عدالتی حكام نے انہیں زبردستی كھڑا كرديا۔
عدالتی فيصلے كے منظر عام پر آنے كے كچھ دير بعد ہی بغداد میں فائرنگ كی آوازیں سنی گئیں۔
چھ ملين افراد پر مشتمل بغداد شہر میں دن بھر كا كرفيو لگا ديا گيا ہے اور كرفيو كے دوران صدام حسين كے حاميوں كی جانب سے كسی ممكنہ تشدد كے خطرے كے پيش نظر ہر قسم كی چھوٹی بڑی گاڑيوں كی آمدو رفت پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ فوجيوں كی چھٹياں منسوخ كردی گئی ہیں اور شہر كا ائير پورٹ بند كرديا گيا ہے۔ صدام كے آبائی قصبے تكريت سميت بغداد كے آس پاس كے علاقوں میں بھی كرفيو لگا ديا گيا ہے۔
صدام كی گرفتاری كو تين سال ہوچكے ہیں اور اس دوران عراق میں تشدد كی كارروائياں بڑھنے سے خانہ جنگی كا خطر پيدا ہو گيا ہے۔
بغداد میں بی بی سی كے نامہ نگار كا كہنا ہے كہ كچھ عراقيوں كا خيال ہے كہ عدالت كے فيصلے سے صورت حال میں بہتری آئے گی۔