ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نےبی بی سی كی اردو اردو سروس سے نقل كيا ہے كہ حملے میں ہلاك ہونے والے فوجيوں كی تعداد بڑھ سكتی ہے
مالاكنڈ میں درگئی كے علاقے میں ايك فوجی تربيتی مركز پر ’خود كش حملے‘ میں 42 فوجی ہلاك ہوگئے ہیں۔ زخميوں میں كچھ كی حالت تشويشناك ہے۔
فوج كے ترجمان ميجر جنرل شوكت سلطان كے مطابق یہ دہشت گردی كی كارروائی تھی جوكہ بظاہر خودكش حملہ معلوم ہوتا ہے۔
خدشہ ہے كہ ہلاك ہونے والوں كی تعداد بڑھ سكتی ہے۔ وزيرِ اطلاعات محمد علی درانی نے بدھ كی شام نيوز كانفرنس سے خطاب كرتے ہوئے كہا كہ اس حملے میں ہلاك ہونے والے فوجيوں كی تعداد 42 ہوگئی ہے۔
مالاكنڈ كی سرحد قبائلی علاقے باجوڑ سے ملتی ہیں جہاں گزشتہ ہفتے پاكستان فوج نے ايك مدرسے پر بمباری كر كے اسی افراد كو ہلاك كرديا تھا۔ بدھ كو حملے كی زد میں آنے والا فوجی تربيتی مركز اس مدرسے سے تقريباً تيس ميل جنوب مشرق میں واقع ہے جس پر فوج نے بمباری كی تھی۔
وزيرِ داخلہ آفتاب شيرپاؤ كے مطابق فوجی مركز پر حملہ باجوڑ كا ردِ عمل ہو سكتا ہے
افغان سرحد كے قريب طالبان كے حمايتی شدت پسندوں اور القاعدہ كے اركان كے خلاف پاك فوج كی كارروائيوں كے آغاز كے بعد، فوج كے خلاف ہونے والا یہ سب سے بڑا حملہ تصور كيا جا رہا ہے۔ مدرسے پر پاكستانی فوج كی كارروائی كے بعد سے قبائلی كھلے عام فوج كے خلاف جوابی كارروائی كی دھمكياں دے رہے تھے۔
درگئی كو تحريكِ نفاذِ شريعتِ محمدی كا گڑھ كہا جاتا ہے۔ گزشتہ ہفتے مدرسے پر فوجی بمباری سے ہلاك ہونے والے افراد میں مدرسے كے سربراہ بھی مارے گئے تھے اور ان كا تعلق بھی تحريك نفاذِ شريعتِ محمدی سے تھا۔
وزير داخلہ آفتاب احمد خان شيرپاؤ نے كہا ہے كہ درگئی خود كش حملے كا باجوڑ واقعہ سے تعلق ہے اور اس بارے میں سيكورٹی ايجنسيز تحقيقات كریں گی۔انہوں نے كہا كہ باجوڑ میں خود كش بمباروں كی تربيت ہورہی تھی اور انہیں لگتا ہے كہ آج كا واقعہ باجوڑ كا رد عمل بھی ہوسكتا ہے۔
درگئی كے مقامی لوگوں كے مطابق یہ دھماكہ صبح ساڑھے آٹھ بجے فوجی تربيت كے مركز كے باہر سڑك كے كنارے بڑے ميدان میں ہوا جہاں زير تربيت فوجی پریڈ كرتے ہیں اور ان كی كلاسیں ہوتی ہیں۔ یہ مركز مردان كی مركزی شاہراہ پر واقع ہے۔
سڑك كے كنارے اس فوجی مركز كے دو گراؤنڈ ہیں۔ ’خودكش حملہ‘ گراونڈ نمبر ايك میں ہوا جہاں تقريبًا ايك سو سے زيادہ فوجی زير تربيت تھے۔ اس ميدان كے اردگرد كوئی ديوار نہیں ہے جس كی وجہ سے سڑك سے ان زيرِ تربيت فوجيوں كو باآسانی ديكھا جاسكتا ہے۔
خود كش حملہ: اہم نكات
دھماكے كے بعد گراؤنڈ میں زيرِ تربيت فوجيوں كی ٹوپياں اور جوتے جگہ جگہ بكھرے ہوئے تھے۔ سركاری ذرائع كے مطابق ايك شخص جس نے چادر اوڑھ ركھی تھی گاڑی سے اترا اور گراؤنڈ میں داخل ہوكر اس نے دھماكہ كر ديا۔ خود كش حملہ آور كی صرف ٹانگیں بچی ہیں جنہیں شناخت كے ليئے فوجی كيمپ لے جايا گيا ہے
درگئی كے ايك مقامی صحافی ہدايت اللہ نے بتايا كہ عينی شاہدين نے ايك شخص كوگراؤنڈ میں جاری ايك كلاس میں گھستے ہوئے ديكھا جس كے بعد دھماكہ ہوگيا۔ بعض ذرائع كے مطابق ايك شخص جس نے چادر اوڑھ ركھی تھی گاڑی سے اترا اور گراؤنڈ میں داخل ہوكر اس نے دھماكہ كر ديا۔
ايك عينی شاہد اورنگزيب نے بی بی سی كو بتايا كہ انہوں نے دھماكے كے چند منٹ بعد ديكھا كہ تربيتی مركز میں فوجی، ہلاك ہونے والے فوجيوں كے جسم كے ادھر ادھر بكھرے ہوئے ٹكڑے اكٹھے كر رہے تھے۔ ’وہاں زخمی مر رہے تھے۔ ان كے جوتے اور كپڑے دور دور بكھرے ہوئے تھے۔‘
ملاكنڈ میں ذرائع كے مطابق خودكش حملہ آور كی صرف ٹانگیں بچی ہیں جنہیں شناخت كے ليئے فوجی كيمپ لے جايا گيا ہے۔ تاہم حكام ابھی اس بارے میں تفصيل نہیں بتا رہے ہیں۔
عينی شاہدين نے ايك شخص كوگراؤنڈ میں جاری ايك كلاس میں گھستے ہوئے ديكھا جس كے بعد دھماكہ ہوگيا۔ بعض ذرائع كے مطابق ايك شخص جس نے چادر اوڑھ ركھی تھی گاڑی سے اترا اور گراؤنڈ میں داخل ہوكر اس نے دھماكہ كر ديا
مقامی صحافی ہدايت اللہ
ہدايت اللہ كا كہنا تھا كہ وہ فوجی مركز كے قريب ايك سٹال پر اخبارات ديكھ رہے تھے كہ زوردار دھماكہ ہوا۔ ان كا كہنا تھا كہ ابتدا میں ان كا خيال تھا كہ كسی گاڑی كا ٹائر پھٹا ہے۔
ان كا كہنا تھا كہ دھماكے كے بعد گراؤنڈ میں زيرِ تربيت فوجيوں كی ٹوپياں اور جوتے جگہ جگہ بكھرے ہوئے تھے۔
مقامی حكام تحقيقات كے ليئے حملے كے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔ زخميوں كو زير تعيمر درگئی ہسپتال اور مرادن سی ايم ايچ منتقل كيا گيا ہے۔ جہاں خون دينے والے بھی بڑی تعداد میں وہاں موجود ہیں۔
ايك دوسرے صحافی عبداللہ عابد كے مطابق فوجی حكام نے علاقے اور ہسپتال كو گھيرے میں لے ليا ہے اور كسی كو آنے جانے نہیں ديا جا رہا ہے۔
ملاكنڈ سے متحدہ مجلس عمل كے ركن قومی اسمبلی بختيار مانی كا كہنا تھا كہ یہ ايك قومی المیہ ہے۔ ان كا كہنا تھا كہ ان سب كو اس واقعہ پر افسوس ہے كيونكہ مالاكنڈ كافی پرامن علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ ان كا كہنا تھا كہ یہ كارروائی باہر سے آئے كسی شخص نے كی ہوگی۔