ہالينڈ: برقع پابندی پرسخت تنقيد

IQNA

ہالينڈ: برقع پابندی پرسخت تنقيد

14:22 - November 19, 2006
خبر کا کوڈ: 1509232
ہالينڈ كے مسلمانوں نے حكومت كی طرف سے برقع پر پابندی لگانے كی تجويز پر سخت تنقيد كی ہے۔





ہالينڈ كے مسلمانوں كا كہنا ہے كہ اس پابندی سے ملك كے دس لاكھ مسلمانوں كے جذبات مجروح ہوں گے اور یہ پابندی انہیں خود كو دوسرے لوگوں سے كمتر اور الگ تصوركرنے پر مجبور كرے گی۔
یہ فيصلہ اتخابات سے چند دن پہلےكيا گيا ہے ۔اس پابندی كی رو سے مسلم خواتين پر گليوں، ريل گاڑيوں، بسوں، تعليمی اداروں اور عدالتوں میں برقعہ پہن كر آنا غير قانونی قرار دے ديا جائے گا۔اور خيال كيا جاتا ہے كہ دائیں بازو كے اتحاد پر مشتمل حكمران پارٹی ہی یہ انتخابات جيتے گی۔
برقعے پر پابندی لگانے كی تجويز ہالينڈ كی اميگريشن كی وزير ریٹا وردنك نے پيش كی تھی۔ ریٹا وردنك اپنی سخت گير پاليسيوں كی وجہ سے مشہور ہیں۔
ان كا كہنا ہے كہ آپس میں ميل جول بڑھانے كے لیے یہ ضروری ہے كہ لوگ ايك دوسرے كو ديكھ سكیں اور پہچان سكیں۔
گزشتہ سال پارليمنٹ كےاراكين كی زيادہ تعداد نے اس پابندی كی حمايت كا اعلان كيا تھا۔ايك اندازے كے مطابق ہالينڈ كی ايك كروڑ ساٹھ لاكھ كی آبادی میں صرف چھ فيصد مسلمان ہیں جن میں سے سو سے بھی كم خواتين برقع پہنتی ہیں۔
ماہرين كی ايك كمیٹی نے قانون كا جائزہ لينے كے بعد كہا ہے كہ یہ پابندی قانون كے منافی نہیں ہے۔ اس اعلان پر مسلمانوں نے شديد ردعمل كا اظہار كيا ہے۔ چہرہ ڈھاپنے كے ہر طريقے پر پابندی ہوگی جس میں نقاب اور ہيلمٹ بھی شامل ہے۔
ریٹا وردنك كا كہنا ہے كہ كابينہ كو لگتا ہے كہ عوامی نظم و ضبط، شہری زندگی اور شہريوں كے تحفظ كی خاطر پبلك مقامات پر چہرے كو ڈھاپنے كی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ وردنك كا یہ بھی كہنا ہے’ ايك دوسرے كی عزت كی خاطر یہ بہت ضروری ہے كہ ہم ايك دوسرے كو ديكھ سكیں‘۔
اس پابندی پر تنقيد كرنے والوں كا كہنا ہے كہ یہ شہری حقوق كی خلاف ورزی ہے۔ ايسوسی ایٹڈ پريس كے مطابق ہالينڈ كی ايك اہم مسلم آرگنائزيشن ’ سی ايم او‘ كا كہنا ہے كہ چھوٹی سی بات كو بڑھا چڑھا كر پيش كيا جا رہا ہے۔
گزشتہ روز حكومت كی مخالف جماعت كے ايك مسلمان ايم پی نعيمہ آزوك نے كہا تھا كہ اس پابندی سے ہالينڈ كی سماجی روايت اور اس ملك میں مخلتف مذہب كے لوگوں كے ساتھ رہنے كی تاريخ كو ٹھيس پہنچے گی۔حكومت لوگوں كے انتہا پسند اسلامی نظريات كے خوف كو ہوا دے كر ووٹ حاصل كرنا چاہتے ہیں۔نعيمہ كا یہ بھی كہنا ہے كہ حجاب يا برقع والی ہر خاتون كوشدت پسند نہیں كہا جا سكتا۔
ايمسٹرڈيم كے ميئر جوب گورڈن كا كہنا ہے كہ وہ برقعے كے خلاف ہیں اور ايسی خواتين كو حكومت كی طرف سے مالی مراعات بھی نہیں ملنی چاہئیں۔ ان كا كہنا ہے كہ آپس كے ميل جول میں ايك دوسرے كا چہرہ نظر نہ آنا بہت ہی برا لگتا ہے۔ چونكہ كم خواتين برقع پہنتی ہیں اس لیے اس بارے میں شوروغوغا ضرورت سے زيادہ ہے۔
يورپی ممالك میں برقعے پر بحث بہت اہميت اختيار كر گئی ہے۔ فرانس نے ہر قسم كی مذہبی علامات پر پابندی لگا ركھی ہے جس میں مسلم سكارف بھی شامل ہیں۔ كچھ جرمن رياستوں نے مسلمان خواتين اساتذہ پر پبلك سكولوں میں سكارف پہننے پر پابدی لگا ركھی ہے۔


نظرات بینندگان
captcha