ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا سے بات چيت كرتے ہوئے حجت الاسلام "شكوری" نے كہا كہ قرآن مجيد میں تمام بنيادی قوانين پائے جاتے ہیں ـ قرآن كريم جزئيات كو بيان كرنے كی بجائے كليات علوم كو بيان كرتا ہے ـ
انھوں نے كہا كہ علماء تمام بشری مشكلات كا حل قرآن سے نكال سكتے ہیں ـ
اگر آج قرآن سے كوئی حكم سمجھنے میں دشواری پيش آتی ہے تو یہ خود ہماری كمزوری ہے كہ ہم نے زمان و مكان كے شرائط و لوازمات كو ملحوظ خاطر نہیں ركھا ـ
"شكوری" نے كہا كہ معارف قرآن كو نہ سمجھنے والے جو افراد یہ ادعا كرتے ہیں كہ یہ كتاب 1400 سال قديمی انسانوں كے لئے نازل ہوئی تھی اور آج كے بشری تقاضوں كو پورا نہیں كرسكتی وہ قرآن كی اس آيت پر غور كریں جہاں خداوند عالم ارشاد فرمارہا ہے كہ "مسلمان اپنی پوری طاقت اور توانائی كے ساتھ دشمن كے مقابلہ كے لئے آمادہ ہوجائیں"
خالق اكبر نے اس آيت میں زرہ كا تذكرہ كيا ہے اور نہ تلوار كا ـ ایٹم بم كا نام ليا ہے اور نہ ہی جنگی جہاز كا اس لئے كہ قرآن ہر زمانے كے لئے ہے ـ مسلمان ہر زمانے میں اپنے دور كی نزاكتوں كو سامنے ركھ كر اسلام كے دفاع كے لئے آمادہ رہیں ـ یہ قرآن كی جامعيت كی بہترين دليل ہے ـ