ايران كی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے بی بی سی سے نقل كيا ہے كہ عراق میں استحكام كے لیے ايران اور شام كو شامل كرنے كی كوشش بظاہر اب رو بہ عمل ہوتی نظر آ رہی ہے اور عراق كے صدر جلال طالبانی ايران كے صدر محمود احمدی نژاد كی دعوت پر ان سے بات چيت كے لیے ہفتے كے روز ايران جائیں گے اور متوقع طور پر اس بات چيت كا محور عراق كی سلامتی كی صورتحال ہوگی۔
اطلاعات ہیں كہ ممكنہ طور پر شام كے صدر بشار الاسد بھی اس بات چيت میں شامل ہوں گے تاہم ابھی اس كی تصديق نہیں ہو سكی۔
ادھر شام كے وزير خارجہ وليد المعلم نے دو ہزار تين كے بعد اپنے پہلے دورۂ عراق میں وزير اعظم نور المالكی اور صدر طالبانی اور ديگر سياستدانوں سے بات چيت كی ہے۔
دریں اثنا انسانی حقوق كی تنظيم ہيومن رائٹس واچ كی طرف سے صدام حسين كے مقدمے كو غير منصفانہ قرار دیے جانے كا جواب ديتے ہوئے كہا ہے كہ كارروائی منصفانہ تھی اور صدام حسين كو اپنے دفاع كا مكمل حق تھا جبكہ عدالت كی كارروائی تمام دنيا نے ديكھی۔