ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) "اعتماد بہ نفس" خداوند عالم كا ايك قيمتی عطیہ ہے ـ
در حقيقت اعتماد بہ نفس اُس قوت كا نام ہے جس كے ذريعہ انسان اپنی صلاحيتوں كی بنياد پر اپنے مقصد كو حاصل كرسكتا ہے ـ
وہ انسان جسے اپنے آپ پر اعتماد نہیں ہوتا وہ اپنی صلاحيتوں سے صحيح فائدہ نہیں اٹھا سكتا ـ آخركار وہ زندگی میں شكست كھا جاتا ہے لہٰذا مقصد تك پہنچنے كے لئے ايك اہم ترين سبب یہ ہے كہ انسان اپنی خدا داد صلاحيتوں كو پہچانے ـ
اور كتنا ہی اچھا ہے كہ انسان انہیں پہچاننےكے لئے اپنے پروردگار كا سہارا لے ـ خداوند عالم قرآن مجيد میں ارشاد فرما رہا ہے میں نے انسان میں اپنی روح پھونك دی اور پھر ملائكہ كو آدم كا سجدہ كرنے كا حكم ديا اور اُس كے بعد انسان كو زمين پر اپنا خليفہ بنادياـ
لہٰذا ايك مسلمان ان آيات میں غوروفكر كركے اچھی طرح یہ سمجھ سكتا ہے كہ پروردگار كے نزديك اُس كا كيا مقام و مرتبہ ہے اور اُس كی بے شمار مخلوقات كے درميان اُس كی كيا قدر و منزلت ہے ـ
خداوند عالم اپنے بندوں كو كتنا چاہتا ہے ـ جب بندہ خدا كے ان الطاف كو ديكھتا ہے تو اُس كا دل بھی محبت خدا سے لبريز ہو جاتا ہے اور اپنے خدا سے رابطہ كو مستحكم كرتا ہے ـ اور یہی رابطہ انسان كو یہ فكر عطا كرتا ہے كہ اُسے خدا كے علاوہ كسی سے نہیں ڈرنا چاہيئے ـ اس لئے كہ اُس كا يارو مدد گار خدا ہے ـ تمام امور میں اُسی پر بھروسہ كرنا چاہئے ـ لہٰذا "اعتماد بہ نفس" كا سر چشمہ اعتماد بہ خدا ہے ـ