ايران كی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) شعبہ خراسان رضوی نے ازبكستان كے مذھبی امور كی نيوز ايجنسی (وستی )سے نقل كرتے ہوۓ كہا :نمايش میں ركھے گۓ آثاروں میں ،ساتویں صدی ھجری كے عثمانی خط كا اصلی قرآنی نسخہ اور آٹھویں صدی ھجری كے خط كوفی میں قرآنی خطی نسخے موجود ہیں-
قابل ذكر ہے اس نمايش گاہ میں ركھی گئی تمام اسناد ازبكستان كی علوم كی اكیڈمی شرق شناسی يونيورسٹی كی لاﺋبريری اور تاشقند يونيورسٹی كے خطی نسخوں كے انسٹیٹيوٹ كے علاوہ مختلف اسلامی اداروں سے لی گئی ہیں –
ازبكستان كی لاﺋبريری كے ريكارڈ میں تقريبا ايك لاكھ مختلف اسلامی ادوار كے بے مثال خطی نسخہ جات موجود ہیں جن میں نصف سے زيادہ عارفانہ تفسيریں ہیں-