ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے سعودی عرب كے اخبار الوطن سے نقل كيا ہے كہ اس شہر كو عالم اسلام كے ثقافتی دارالحكومت منتخب كرنے كی چند دليلیں كچھ اس طرح ہیں:سنہ ۲۴۵ ھ ق بمطابق سنہ ۸۹۵ ء كو سب سے پہلی يونيورسٹی كی عمارت اس شہر میں اسلامی معماری (طرز تعمير) پر مشتمل قديمی مساجد ،اسلامی فنون كے دوسرے آثار اور قديمی تہذيب و تمدن مراكش كے اس تاريخی شہر سے زيادہ سے زيادہ آگاہی حاصل كرنے كے لیے گذشتہ ماہ نومبر كے آواخر میں (قرويين يونيورسٹی اور اديان اور تہذيبوں كے درميان گفتگو) كے موضوع پر ايك تين روزہ سيمينار منعقد ہوا-
اسی طرح اس شہر كو عالم اسلام كا ثقافتی مركز قرار دينے كی دليل كو زيادہ سے زيادہ واضح كرنے كے لیے ۸ جنوری سے ۱۰ جنوری تك ،فأس (القرويين يونيورسٹی اور اديان و تہذيبوں كے درميان گفتگو) كے موضوع پر بين الاقوامی كانفرنس كی ميزبانی كرے گا-
مراكش كی ثقافتی اور تعليمی انجمن كے سربراہ (محمد اديب السلاوی)نے كہا:یہ كانفرنس عالم اسلام كے دسيوں مفكروں جن میں سے خود مراكش سے ۱۵ اور باقی عربی ،اسلامی ،يورپی اور امريكی ممالك سے مفكرين اور دانشور شركت كریں گے- قابل ذكر ہے كہ یہ كانفرنس آيسيسكو كے تعاون سے منعقد ہوگی-