ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ايكنا نے (HARUNE YAHAYA.COM) سے نقل كيا ہے كہ مذھبی علامات كو ممنوع قرار دينے كا قانون فرانس كے معاشرہ میں اس كے آزادی اور ثقافتی و انسانی حقوق سے متصادم ہے اور فرانس كی حكومت ايسے ہی قوانين كو منظور كر كے حجاب پر پابندی لگاتی ہے اور اپنی اسلام دشمنی كو نئ شكل میں پيش كرتی ہے-
كئ فرانسيسی دانشوروں نے ايسے اقدامات كا تجزیہ و تحليل كيا ہے اور دين مبين اسلام كے بارے میں مختلف بحث و مباحثے بھی انجام دیے ہیں اور كہا ہے كہ مذھب نہ تنہا وحشت وخوف كو ايجاد نہیں كرتا بلكہ صلح ،سچائی اور صبر و شكيبائی جيسی اقدار كو معاشرے میں عام كرنے كاسبب بھی بنتا ہے –