ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی كی رپورٹ كے مطابق عراق كے نائب وزير خارجہ لبيد عباوی نے كہا ہے كہ عراق كےسابق ڈكٹیٹر صدام كو آج صبح عدلیہ كے سربراہ سميت سات عراقی حكام كی موجودگی میں تختۂ دار پر لٹكا ديا گيا ۔صدام كی لاش كو نامعلوم مقام پر دفن كيا جائے گا۔
صدام كو ايسے وقت میں پھانسی دی گئی كہ جب اس پر اصل جرائم كے سلسلے میں مقدمہ نہیں چلايا گيا ۔
صدام نے امريكہ اور مغرب كی حمايت سے سنہ 1980 میں ايران پر حملہ كيا اور ہزاروں ايرانی نوجوانوں كو شہيد كيااور عراقی اور ايرانی عوام كے خلاف كيميائی ہتھياروں كا استعمال كيا۔
عراقی عدالت نے پانچ نومبر كو دجيل گاؤں كے 148 افراد كے قتل كے جرم میں پھانسی كی سزا سنائی تھی اور اپيل كورٹ نے بھی گذشتہ منگل كو اس فيصلے كی توثيق كردی تھی ۔
عراق كے قومی سلامتی كے مشير موفق الربيعی نے كہاہے كہ صدام كی لاش اس كے ورثا كے حوالے كی جائے گی تاكہ اسے تكريت میں دفن كياجائے ۔
صدام كے ايك وكيل نجيب النعيمی نے كہا ہے كہ صدام كی لاش كو عراق سے باہر لے جايا جائے گا ۔
دوسری طرف صدام كی بیٹی رغد نے يمن كے صدر علی عبداللہ صالح سے اپيل كی ہے كہ وہ عراقی حكام سے صدام كی لاش كو يمن منتقل كرنے كی درخواست كریں ۔
عراق خصوصا" بغداد میں صدام كی پھانسی پر ممكنہ رد عمل كے پيش نظر انتہائی سخت حفاظتی اقدامات كئے گئے ہیں ۔صدام كے آبائی علاقے تكريت میں كرفيو لگاديا گيا ہے ۔
دجيل مقدمے میں سزائے موت پانے والے دو ديگر افراد برزان تكريتی اورعواد البندر كو عيد الاضحی كے بعد پھانسی دی جائے گی ۔
العراقیہ ٹی وی چينل نے وزير اعظم نوری المالكی كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ صدام كے سوتيلے بھائی برزان تكريتی اور عراق كی انقلابی عدالت كے سابق سربراہ عواد البندر كو عيد الاضحی كے بعد تختۂ دار پر لٹكايا جائے گا ۔
بعض نيوز ايجنسيوں نے عراقی وزير اعظم كے حوالے سے رپورٹ دی تھی كہ ان دونوں افراد كو صدام كو پھانسی دينے كے تھوڑی دير بعد تختۂ دار پر لٹكا ديا گيا۔