ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق شہاب الدين كا مزار ايك مدرسہ اور ايك چھوٹی سی مسجد پر مشتمل ہے اور مسلمانوں كا تقاضا ہے كہ ايك مسجد كی تعمير كی اجازت دی جاۓ-
كليسا اور مزار كے درميان كافی فاصلہ موجود ہے لہذا ناصریہ كہ جس كی آبادی میں ۶۰ فيصد مسلمان ہیں انہوں نے تقاضا كيا ہے كہ ايك مسجد كی تعمير كی اجازت دی جاۓ-
واضح رہے كہ شہاب الدين كا مزار كليسا سے ۱۰ میٹر كے فاصلے پر واقع ہے جو ہميشہ مسلمانوں اور عيسائيوں كے مابين كشيدگی كا باعث رہا ہے-
ناصریہ میں اور بھی اسلامی تاريخی عمارتیں موجود ہیں مسجد البياد جو كہ كليسا كے شمال میں واقع ہے اس شہر كی قديم ترين تاريخی عمارت ہے-