ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا)كی رپورٹ كے مطابق آيت اللہ محمد ھادی معرفت كی تشييع جنازہ اتوار كی صبح قم كی مسجد امام حسن عسكری (ع)سے حرم مطہر حضرت فاطمہ معصومہ ۜ كی طرف انجام پاۓ گی-
آيت اللہ محمد ھادی معرفت ۱۳۰۹ ھ ش كو كربلا میں ايك متدين اور محب قرآن و عترت خاندان میں پيد ا ہوۓ ان كے والد شيخ علی معرفت اھل علم و فضل تھے ان كا سارا خاندان ۳۰۰ سال سے اھل علم چلا آ رہا ہے اور سب كے سب شيخ عبد العالی ميسی (صاحب رسالہ ميسیہ) كی اولاد تھے-
جو جبل عامل كے قریہ ميس سے اصفہان ھجرت كر گۓ تھے آيت اللہ معرفت كے جد امجد اپنے اھل و عيال كے ساتھ كربلا گۓ اور وہاں پر سكونت پذير ہو گۓ-
آيت اللہ معرفت نے ابتدائی تعليم اپنے والد اور مكتب خانہ سے حاصل كی اور پھر دينی تعليم كا آغاز حوزہ علمیہ كربلا سے كيا –كچھ عرصہ كربلا میں تعليم حاصل كرنے كے بعد انہوں نے اعلی تعليم كے لیے نجف اشرف كی طرف رخت سفر باندھا اور وہاں ديگر اساتذہ كے علاوہ آيت اللہ خوئی سے كسب فيض كيا-
آپ نے اپنی تمام تعليمی مدت میں تدريس كے فرائض سے غفلت نہ برتی اور كتب كی تدوين میں بھی آپ با كمال تھے
آپ كی تاليفات میں :ولايت فقیہ ،فرضیہ بازگشت روح ،مصونيت قرآن از تحريف ، حديث لا تعاد ،تناسب آيا ت،آموزش علوم قرآن ،تاريخ قرآن ،التفسير و المفسرون ،التمہيد فی علوم القرآن ،شبہات و ردود ،التفسير الاثری الجامع شامل هیں
ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا )كے تمام اراكين اس عظيم عالم كی رحلت پر حضرت امام عصر عج ،قائد انقلاب اسلامی اور تمام مسلمانوں بالخصوص قرآنی محققين اور قرآن دوستوں كو تعريت پيش كرتے ہے-