ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) نے اطالوی خبر رساں ايجنسی( اے كے آئی) سے نقل كيا ہےكه مراكش كے وزير مذھبی امور احمد توفيق نے اس قانون كے پارليمنٹ سے منظور ہونے پر خوشی كا اظہار كرتے ہوۓ كہا كہ اس كے بعد كسی مسجد كو غير دينی امور كے لیے استعمال نہیں هونے ديا جاۓ گا اور نہ ہی مساجد میں سری سرگرمياں عمل میں آئیں گی
اس قانون كے تحت مساجد كی تعمير كے لیے حكومت سے اجازت لينا ہوگی اور ٹرسٹ كے تمام افراد اور مسجد كے مالی امور كی تفصيل بھی بتانا لازمی ہوگی ۔ حزب اختلاف میں موجود سياسی جماعتوں نے اس قانون پر اعتراض كيا ہے-